خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 34

34 اپنے آپ کو خطرہ میں ڈالتا ہے تو قابل تعریف ہے۔نہ کہ قابل مذمت۔مثلا ایک شخص کسی کو ڈوتا دیکھ کر پانی میں کود پڑتا ہے۔اب ممکن ہے وہ خود بھی ڈوب جائے اور ممکن ہے دوسرے کو بچا لائے۔اگر وہ خود بھی ڈوب جائے تو قابل ملامت نہیں ہو گا۔پس ہر کام میں یہ دیکھنا چاہئے کہ بدنیتی تو نہیں اگر یہ نہیں اور ضیاع ہے تو یہ فطرتی بات ہے۔تیسری بات یہ یاد رکھنی چاہئے کہ ہر الزام سچا نہیں ہو تا بعض لوگ ہر بات سن کر یقین کر لیتے ہیں کہ سچی ہوگی۔حالانکہ ایسی باتوں میں سے 99 فیصد غلط ہوتی ہیں۔مثل مشہور ہے۔پر سے کتوں کی قطاریں بن گئیں۔ہے تو لغو ہی قصہ مگر مشہور اس طرح ہے کہ کوئی بادشاہ پاخانہ میں گیا تو اس نے دیکھا وہاں پر پڑا تھا۔اس نے اس بات کی شکایت کی کہ صفائی اچھی نہیں ہوتی پاخانہ میں پر پڑا ہوا تھا۔اس سے کسی نے یہ سمجھا کہ پاخانہ میں سے پر نکلا ہے۔اس سے آگے یہ سمجھا گیا کہ کھانے میں پر کھایا گیا۔اس طرح بات بتاتے بتاتے کوے بنا دیئے گئے۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ کس طرح باتیں بنائی اور بڑھائی جاتی ہیں۔اس لئے سمجھنا چاہئے کہ ہر خبر جو پہنچے بچی نہیں ہوتی۔اگر اس بات کو مد نظر رکھا جائے تو بہت سے فتنوں سے انسان محفوظ رہ سکتا ہے۔تین باتیں تمام لوگوں کے ذہن نشین کرائی جائیں۔کیونکہ ان کے سمجھنے کے بغیر ہماری جماعت کامیاب نہیں ہو سکتی۔اور ان کے بغیر کسی قوم کے قدم فتح کی طرف نہیں اٹھ سکتے۔بلکہ وہ قوم ذلیل ہو جاتی ہے۔دیکھو انگریز اس ملک میں اپنی جانوں کو خطرہ میں ڈال کر آئے اور فاتح بن گئے۔ہمارے ملک کے لوگ جانوں کے خطرہ کی وجہ سے گھر سے نہ نکلے۔انہوں نے سمجھا ہم سمندر میں ڈوب جائیں گے۔نتیجہ یہ ہوا سمندر تو الگ رہا۔خشکی میں ڈوب گئے اور ایسے ڈوبے کہ ایک لاکھ کے قریب انگریز کئی کروڑ پر حکومت کر رہے ہیں پھر انگریزوں نے نقصان کی پروا نہ کرتے ہوئے صنعت و حرفت میں اپنا روپیہ لگایا۔مگر ہمارے ملک کے لوگ نقصان سے ڈرتے رہے۔اب حالت یہ ہے کہ ہر چیز کے لئے ان کے محتاج ہیں۔سوئی دھاگہ۔جراب۔پگڑی غرض جس چیز کی ضرورت ہو ہم ان کا منہ تکتے ہیں۔ہم نے کہا اگر ہم کارخانے کھولیں گے تو شائد گھانا پڑ جائے اور روپیہ ضائع ہو جائے۔مگر جب ہم ضیاع سے ڈرے تو خدا نے ہمیں روپیہ ہی نہ دیا اور ہم تجارتی میدان میں گر گئے۔تاریخوں میں واقعہ لکھا ہے کہ شاہ جہان کی بیوی تاج محل نے خواب میں ایک مقبرہ دیکھا۔دنیا میں جو سات عمارتیں اعلیٰ درجہ کی سمجھی جاتی ہیں ان میں سے ایک تاج محل ہے۔بیگم نے بادشاہ کو بتایا۔اس نے انجنیر بلائے اور کہا کیا تم اس قسم کا مقبرہ تیار کر سکتے ہو۔سب نے انکار کر دیا۔آخر