خطبات محمود (جلد 10) — Page 33
33 ہے۔یہ حق عیسائیوں کو مغلوں۔پٹھانوں اور سیدوں کی وجہ سے نہیں۔بلکہ چوہڑوں کی وجہ سے حاصل ہوا ہے۔تم میں سید مغل پٹھان ہیں۔مگر احمدیوں کو یہ حق نہیں دیا گیا اور عیسائیوں کو دیا گیا ہے۔کیونکہ یہاں ان کی تعداد زیادہ ہے۔تو وہ روپیہ جو عیسائیوں نے ان لوگوں کے لئے خرچ کیا تھا اس طرح کام آگیا کہ ان کا اس ملک پر حق تسلیم کر لیا گیا مگر تمھارا نہیں تسلیم کیا گیا۔ابھی چند دن ہوئے ایک دوست کا خط آیا ہے کہ عدن میں ۳۴ سال ہو گئے ہیں عیسائیوں کا مشن قائم ہوئے جس پر لاکھوں روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ان کا ایک بہت بڑا ہسپتال ہے مگر اس وقت تک ایک آدمی بھی عیسائی نہیں ہوا۔اور عیسائی اسی جوش سے مال صرف کر رہے ہیں۔ان سے پوچھا گیا کہ جب کوئی فائدہ نہیں تو کیوں تم مال خرچ کرتے ہو۔انہوں نے کہا۔ہمارا کام کام کرنا ہے آگے ماننا ان لوگوں کا کام ہے۔اس وقت تک ان کا کروڑ ڈیڑھ کروڑ کے قریب روپیہ صرف ہو چکا ہو گا مگر اس بات کی انہیں کوئی پروا نہیں کہ یہ روپیہ ضائع ہو گیا۔دراصل وہ اسے ضائع نہیں سمجھتے۔کیونکہ وہ سمجھتے ہیں نیک نیتی سے کام کرتے ہوئے مال کا ضائع کرنا ہی کامیابی ہے۔کیونکہ جو قوم خطروں کو برداشت کرتی ہے وہی جیتی ہے۔ہماری جماعت کے لوگوں کو یہ بات ذہن نشین کرنی چاہئے کہ اگر کوئی کارکن غلطی کر جائے اور کسی کام کا نتیجہ اس طرح نہ نکلے جس طرح امید کی جائے۔تو اس کے متعلق یہ نہیں کہنا چاہئے کہ اس میں مال ضائع ہو گیا۔جس کا کوئی فائدہ نہ ہوا۔جو قوم اپنا مال ضائع کرنے کے لئے تیار نہیں وہ فتح کے لئے بھی تیار نہیں ہو سکتی۔ایسا کوئی کام نہیں۔جس کے متعلق یہ کہا جاسکے کہ اس میں نقصان کا احتمال نہیں ہو گا۔بلکہ انسان جب اپنی جان تک دے دینے کے لئے تیار ہوتا ہے تب کامیابی ہوتی ہے۔دیکھو عورت جان دیتی ہے تب بچہ پیدا ہوتا ہے۔بیسیوں عورتیں بچہ پیدا ہونے کی وجہ سے مرجاتی ہیں۔اس سے کیا عورتیں یہ کہہ دیں کہ چونکہ جان کا خطرہ ہوتا ہے اس لئے بچے ہی پیدا نہیں کرنے چاہئیں۔پھر دیکھو خدا تعالیٰ کے کاموں میں بھی ضیاع پایا جاتا ہے اور دہریہ اس پر اعتراض کرتے ہیں۔دس بچے پیدا ہوتے ہیں۔جو سارے کے سارے زندہ نہیں رہتے۔بلکہ ان میں سے پانچ مرجاتے ہیں۔اسی طرح درختوں پر کروڑوں من بور لگتا ہے جس میں سے بہت سا گر جاتا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ سب کاموں میں ضیاع لگا ہوا ہے اور اس کے بغیر کوئی کامیابی اور کوئی فتح حاصل نہیں ہو سکتی۔پس اگر کوئی بات قابل اعتراض ہے تو وہ بدنیتی اور بے پرواہی ہے ورنہ نیک نیتی سے اگر کوئی