خطبات محمود (جلد 10) — Page 32
32 ہے۔باوجود اس کے کہ وہ ہماری جماعت میں شامل نہیں مگر انہوں نے کہا سچے مسلمان آپ ہی لوگ ہیں۔اب ممکن تھا کہ علاقہ ملکانہ میں ہمارا جو روپیہ اور محنت صرف ہوئی وہ صرف ہوتی مگر کوئی نتیجہ نہ نکلتا۔کیونکہ آریہ وہاں دیر سے کام کر رہے تھے۔ان کا اس علاقہ میں بڑا اثر اور رسوخ تھا۔ممکن تھا کہ سات آٹھ لاکھ آدمی آریوں کے قبضہ میں چلے جاتے۔مگر خدا تعالیٰ نے ہمیں فتح دی اور اب سارے اس فتح میں شامل ہیں اور کہتے ہیں ہم احمدیوں نے یہ کام کیا۔اگر خدا نخواستہ شکست ہوتی تو کہتے خلیفہ نے اس قدر روپیہ ضائع کر دیا۔دراصل کام کرنے والے کا صرف یہ کام ہوتا ہے کہ وہ اپنی عقل سے اندازہ لگاتا ہے کہ کامیابی ہو سکتی ہے اور پھر موقعہ دیکھ کر حملہ کر دیتا ہے۔اس کے لئے یہ کام منٹوں کا ہوتا ہے منٹوں میں اسے فیصلہ کر کے حملہ کرنا ہوتا ہے۔اگر اس کا اندازہ بالکل ٹھیک لگ گیا۔اور حملہ عین وقت پر ہو گیا تو کامیابی ہو جاتی ہے ورنہ نہیں۔دیکھو نپولین جیسے فاتح کی آخری شکست صرف پانچ منٹ کی وجہ سے ہوئی تھی۔اس نے سارے یورپ کو شکست دے دی تھی۔آخر سب نے مل کر اسے شکست دی اور قید کر لیا۔مگر وہ قید سے نکلا اور فوج لے کر مقابلہ کے لئے چلا۔دونوں لشکروں کے درمیان ایک ٹیلہ تھا۔نپولین نے اپنے ایک جرنیل کو بھیجا کہ اس پر جا کر قبضہ کر لو اور اس پر توپ خانہ رکھ دو۔وہ جرنیل فوج لے کر گیا لیکن چونکہ سپاہی تھکے ہوئے تھے۔اس ٹیلے کے نیچے پہنچ کر اس نے اجازت دے دی کہ رات کو یہاں آرام کر لو صبح ٹیلہ پر قبضہ کریں گے۔صبح اٹھ کر جب وہ قبضہ کرنے کے لئے گئے تو ان سے صرف پانچ منٹ پہلے انگریزی فوج اس پر قبضہ کر چکی تھی۔اس سے جنگ کا نقشہ ہی بالکل بدل گیا۔نپولین کو شکست ہوئی اور وہ پکڑا گیا۔اگر اس ٹیلہ پر پانچ منٹ پہلے انگریزوں کا قبضہ نہ ہو جاتا تو آج نہ انگریز اس حالت میں ہوتا اور نہ جرمن۔مگر پانچ منٹ کی غفلت اور دیر نے دنیا کی قوموں کے حالات بدل ڈالے۔تو کام کرنے والوں کو منٹوں میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔پھر بعض دفعہ ان کا فیصلہ صحیح ہوتا ہے اور بعض دفعہ غلط بھی ہوتا ہے۔ایک قوم کے سردار آتے ہیں ان کے متعلق سمجھا جاتا ہے کہ آج ان کے لئے اگر روپیہ صرف کریں گے تو کل یہ ہمیں مدد دیں گے۔ہو سکتا ہے کہ جس قدر امید لگائی جائے وہ پوری نہ ہو لیکن اس سے بددل نہیں ہونا چاہئے۔دیکھو عیسائیوں نے ہندوستان کی اچھوت اقوام کے لئے کروڑوں روپے خرچ کر دیئے۔جس کا نتیجہ سالہا سال کی کوششوں کے بعد یہ نکلا ہے کہ آج انہیں کونسل میں ممبری کا حق حاصل