خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 31

31 بڑے گلہ کی قیمت ایک لاکھ بھی سمجھی جائے تو معلوم ہوا کہ ایک لاکھ خرچ کر کے بھی اگر ایک آدمی ہدایت پاتا ہے تو یہ سودا مہنگا نہیں سستا ہے۔اسی طرح ہمیں اگر ان لوگوں میں سے ایک آدمی بھی مل گیا تو جو کچھ ہمارا خرچ ہوا ہے اس کے مقابلے میں سستا ہے۔مہنگا نہیں ہے۔ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ جو امید تھی کہ یک لخت ہزاروں آدمی اسلام میں داخل ہو جائیں گے وہ پوری نہیں ہوئی۔باقی جنہوں نے اسلام قبول کیا ہے ان کی شکل دیکھ کر وہ شخص معلوم کر سکتا ہے جسے چہروں کے مطالعہ کی قابلیت ہو کہ سچا ایمان لائے ہیں۔پس بعض جگہ مال ضائع ہو جاتا ہے مگر بغیر اس خطرہ میں پڑے کامیابی کب ہو سکتی ہے۔پہلے انسان گھر کی چیز تباہ کرنے کے لئے نکلتا ہے۔تب کامیاب ہوتا ہے۔پچھلے دنوں ضلع سیالکوٹ کے کچھ لوگ آئے۔جنہوں نے بتایا کہ ہمارے علاقہ میں بغیر بارش کے فصل نہیں ہو سکتی۔کنویں ایسے ہیں کہ اگر ان کا پانی کھیتوں کو دیا جائے تو کھیت بالکل تباہ ہو جائیں۔ہم لوگ گھر میں جو غلہ تھا وہ کھیتوں میں ڈال آئے ہیں۔اب اگر بارش ہوئی تو فصل ہو جائے گی ورنہ نہیں۔اب دیکھو ان لوگوں نے جو غلہ ان کے پاس تھا اسے بھی خطرہ میں ڈالا یا نہیں۔اور اگر بارش نہ ہوئی تو کیا ان کو کوئی ملامت کرے گا کہ تم کھیتی باڑی کرنے کے قابل نہیں تم سے زمینیں چھین لینی چاہیئں۔ہرگز نہیں۔بات یہ ہے کہ خطرہ برداشت کرنے کے بعد کامیابی ہوتی ہے۔اور جب تک کوئی قوم اس بات کے لئے تیار نہ ہو کہ موقع کو دیکھ کر خطرہ بھی برداشت کرے۔اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی۔ہم نے جب علاقہ ملکانہ میں کام شروع کیا۔تو اس وقت سارے مسلمان ملکانوں کی طرف سے مایوس ہو چکے تھے۔یہاں قادیان میں بھی جب میں نے اس بارے میں مشورہ لیا تو کئی آدمیوں نے مجھے کہا اس میں کامیابی نہ ہوگی۔کیونکہ آریہ سالہا سال سے وہاں کام کر رہے ہیں۔اس وقت میں نے بتایا کہ اگر اس کام کو ہم شروع کریں گے تو کم از کم پچاس ساٹھ ہزار روپیہ خرچ ہو گا اور سینکڑوں آدمیوں کو اس کے لئے اپنا وقت صرف کرنا ہو گا۔چنانچہ لاکھ ڈیڑھ لاکھ کے قریب ہماری جماعت کا روپیہ اس کام میں صرف ہوا مگر آج سارا ہندوستان اس بات کا اقرار کر رہا ہے کہ احمدیوں کی وجہ سے آریوں کو علاقہ ملکانہ میں شکست ہوئی۔ابھی مفتی محمد صادق صاحب علی گڑھ گئے تو سر عبدالرحیم نے جو اس سال مسلم لیگ کے پریذیڈنٹ تھے۔علاقہ ملکانہ میں کام کرنے کی وجہ سے مفتی صاحب سے کہا۔آپ ہی کی جماعت کچی مسلمان جماعت اور بچے طور پر اسلام کی خدمت کرنے والی