خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 30

30 اور یہ ضروری ہے ورنہ قوم کم ہمت ہو جاتی ہے وہی قوم دنیا میں بڑھتی اور ترقی کرتی ہے جو کامیابی کا اندازہ لگا کر اس کے لئے ہر طرح کوشش کرتی ہے۔اس کے سوا کامیابی کی کوئی صورت نہیں۔کوئی کامیابی دنیا میں ایسی نہیں۔جس میں کچھ نہ کچھ ضیاع نہ لگا ہو۔یہی چھوٹی مثال دیکھ لواے باہر کی جماعتوں میں جہاں مبلغ کی ضرورت ہوتی ہے وہاں کی جماعت مبلغ کے لئے درخواست کرتی ہے۔اس پر اگر ہم کہیں کہ پہلے یہ بتاؤ وہاں کتنے آدمی احمدی ہوں گے تب مبلغ بھیجا جائے گا تو کیا کبھی کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ کوئی لیکچرار اچھا نہیں بول سکتا یا بیمار ہو جاتا ہے یا اس کا گلہ خراب ہو جاتا ہے تو اس کے جانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور بعض دفعہ تو ایسا بھی ہو جاتا ہے کہ ایک دو شخص مرتد بھی ہو جاتے ہیں پھر کیا ان باتوں کی وجہ سے مبلغ ہی نہ بھیجے جایا کریں۔کیا دنیا میں کبھی کوئی ایسا کام بھی ہوا ہے جس میں یقینی نفع ہو اور ایک ذرہ بھی نقصان نہ ہو۔جب تک انسان کام کرنے والے ہیں اس وقت تک ایسا ہی ہو گا کہ کام کرنے میں نقصان بھی اٹھانا پڑے گا جو قوم یہ چاہتی ہے کہ اس کا مال ضائع نہ ہو۔وہ دنیا میں کوئی کام کرنے کے قابل نہیں ہے اسے چاہئے کہ اپنے گھروں میں بند ہو کر بیٹھی رہے۔پس یہ مت خیال کرو۔اگر تم کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہو کہ تمہارے مالوں کا کوئی حصہ ضائع نہیں ہونا چاہئے۔ہاں یہ کوشش کرو کہ ہر ایک کام دیانت داری سے ہو۔اگر کسی کام کرنے والے کی بد دیانتی ہو تو اسے علیحدہ کر دو۔لیکن اگر کسی سے غلطی ہوتی ہے تو اسے ناقابل معافی مت سمجھو۔میرے کانوں میں یہ اعتراض پہنچا ہے کہ پچھلے دنوں اچھوت لوگوں کی اصلاح کے لئے جو کوشش کی گئی اس میں بہت سا روپیہ تباہ کر دیا گیا ہے۔میں کہتا ہوں اگر اس کام میں کامیابی ہو جاتی اور لاکھوں آدمی اسلام میں داخل ہو جاتے تو یہی لوگ جو اب اعتراض کرتے ہیں کہتے ہم پہلے ہی کہتے تھے۔اس میں کامیابی ہوگی۔اور اس طرح فتح میں وہ بھی شامل ہو جاتے۔بلکہ دوسروں سے بڑھ کر اپنے آپ کو حصہ دار بتاتے۔مگر میں کہتا ہوں کہاں وہ روپیہ ضائع ہوا۔دو سو کے قریب اب بھی ان میں سے ایسے لوگ ہیں کہ بعض کو میں دیکھ کر پہچان نہیں سکتا کہ یہ ان لوگوں میں سے ہیں۔ان کے چہرے بدل گئے۔ان میں رشد نظر آتا ہے۔نمازوں میں باقاعدہ شامل ہوتے ہیں تبلیغ کرتے ہیں اور ان کے ذریعہ نئے آدمی مسلمان ہونے کے لئے آتے ہی رہتے ہیں۔پھر یہ روپیہ ضائع تو نہیں ہوا۔رسول کریم فرماتے ہیں۔اے علی (دوسرے موقعہ پر ایک اور صحابی سے فرماتے ہیں) ایک آدمی کا ہدایت پا جانا دو پہاڑوں کے درمیان بھرے ہوئے بھیٹر بکری کے گلے سے زیادہ قیمتی ہے۔اگر اتنے