خطبات محمود (جلد 10) — Page 12
12 الصلوۃ والسلام کی درد بھری دعائیں درجہ قبولیت کو پہنچ گئیں اور خدا تعالی اپنے فضل سے ایسے سامان کرے گا کہ یہ سلسلہ وسیع ہو گا اور نئے سرے سے اسی طرح توسیع مکان کی ضرورت پیش آئے گی۔جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت پیش آئی تھی۔مجھ پر اس رویا کا اتنا اثر ہوا کہ میں خواب میں ہی سوچتا ہوں کہ جب خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وعدہ کیا ہے کہ جماعت بڑھے گی۔اور باوجود اس کے کہ جماعت میں غفلت اور سستی پائی جاتی ہے۔کئی لوگ لڑائی جھگڑوں میں پڑے ہیں۔فرماتا ہے کہ مکان وسیع کرو۔تو اب رڈیا کو پورا کرنے کے لئے کس طرح مکان کو وسیع کیا جائے۔خواب میں ہی میں خیال کر رہا ہوں۔میں نے تو کبھی مکان نہیں بنوایا۔اب کس طرح وسعت کراؤں گا۔پس یہ وہی وعدہ ہے کہ جماعت بڑھے گی اور یہ پورا ہو کر رہے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو متواتر و منع مکانک کا الہام ہوتا رہا اور نبیوں کے الہام بعض دفعہ دُوری ہوتے ہیں۔یعنی ایک زمانہ آتا ہے۔جب وہ پورے ہوتے ہیں۔پھر درمیان میں وقفہ پڑ جاتا ہے۔پھر ان کے پورے ہونے کا وقت آجاتا ہے۔گویا وہ ایک ہی دفعہ پورے ہو کر ختم نہیں ہو جاتے بلکہ بار بار پورے ہوتے رہتے ہیں۔وجہ یہ کہ انسان کی زندگی تو اس کے سانس تک ہوتی ہے۔لیکن نبیوں کی زندگی ان کے سانس تک نہیں ہوتی۔بلکہ ان کی قوم کے سانس تک ہوتی ہے۔اس لئے متواتر ان کے الہام پورے ہوتے رہتے ہیں۔چونکہ یہ رویا ہماری جماعت کی اصلاح اور درستی سے تعلق رکھتی ہے۔اس لئے میں نے اس کا بیان کرنا ضروری سمجھا۔امید ہے کہ دوست اس مقصد کو مد نظر رکھیں گے جو سلسلہ کے قیام میں خدا تعالٰی نے ہمارے لئے تجویز کیا ہے۔میں کسی قسم کا احسان جتانے کے طور پر نہیں اپنی کسی بڑائی کے اظہار کے لئے نہیں۔فخر کے طور پر نہیں۔بلکہ امر واقعہ کے طور پر اور مجبوری سے کہتا ہوں کہ تم اپنے نفسوں میں غور کر کے دیکھو۔آپ لوگوں کی دینی خدمات ذاتی طور پر مجھے کیا نفع دیتی ہیں۔آخر اتنا تو سوچو کہ میں جو تمھیں خدمت دین کے لئے نصیحت کرتا اور اس کی طرف توجہ دلاتا ہوں تو اس میں میرا ذاتی کیا نفع ہے۔جسمانی لحاظ سے جن آراموں کی آپ لوگوں کو ضرورت ہے۔مجھے بھی ہے۔جسمانی لحاظ سے جو چیزیں آپ لوگوں کو لذیذ اور تسکین وہ معلوم ہوتی ہیں۔وہ مجھے بھی لذیذ اور تسکین وہ معلوم ہوتی ہیں۔پھر کون سے ذاتی نفع کا خیال ہے جو مجھے مجبور کرتا ہے کہ میں آپ لوگوں کو اس امر کی طرف توجہ