خطبات محمود (جلد 10) — Page 11
11 نہیں رہتا اور یہ بات ذہن سے اتر جاتی ہے کہ ساری دنیا ہماری دشمن ہے۔اگر یہ مقصد سامنے رہتا کہ ساری دنیا کو ہم نے فتح کرنا ہے اور اگر یہ بات ذہن سے نہ اتر جاتی کہ ساری دنیا ہماری دشمن ہے تو کبھی ہم میں سے کوئی شخص آپس میں نہ لڑتا نہ جھگڑتا۔کیا وہ لوگ جو کشتی میں بیٹھے یہ دیکھ رہے ہوں کہ کشتی غرق ہو رہی ہے۔کبھی اس بات کے لئے لڑتے ہیں کہ یہ میرے بیٹھنے کی جگہ ہے اور وہ تمھارے بیٹھنے کی۔کیوں؟ اس لئے کہ وہ جانتے ہیں اگر ہم اس بحث میں پڑے رہے تو نہ جگہ رہے گی اور نہ کشتی۔اس وقت ان کے سامنے ایک ہی بات ہوتی ہے اور وہ یہ کہ کشتی کو غرق ہونے سے بچایا جائے۔خواہ کوئی کہیں بیٹھ جائے۔پس ہمیشہ اختلاف کا موجب یہ ہوتا ہے کہ وہ چیز سامنے سے جاتی رہتی اور وہ مقصد بھول جاتا ہے جس کے لئے کھڑے ہوتے ہیں۔اگر ہم میں سے ہر ایک شخص اس بات کو مد نظر رکھے کہ خدا نے ہمیں اس لئے کھڑے کیا ہے کہ ہم ساری دنیا کو فتح کریں تو ہم میں کبھی کوئی لڑائی جھگڑا فساد اور اختلاف نہ ہو۔کیونکہ بڑی چیز کے مقابلہ میں چھوٹی چیز کی پروا نہیں کی جاتی۔کیا جان بچانے کے لئے انسان اپنا ہاتھ نہیں کٹوا دیتا یا ناک نہیں کٹوا دیتا یا کان نہیں کٹوا دیتا یا آنکھ نہیں نکلوا دیتا۔کیوں؟ اس لئے کہ جان کسی عضو کے مقابلہ میں بڑی چیز ہے۔اسی طرح دیکھو عورت کو اولاد سے کتنی محبت ہوتی ہے۔لیکن وہ عورت جس کے رحم میں بیماری پیدا ہو جائے اور یہ ڈر ہو کہ اگر بچہ پیدا ہوا تو مر جائے گی وہ رحم ہی نکلوا دیتی ہے۔اور اس طرح قطعی اور یقینی طور پر فیصلہ کر لیتی ہے کہ میں آئندہ اولاد سے محروم رہوں۔پس بڑی چیز کو بچانے کے لئے چھوٹی چیز کا نقصان گوارا کیا جاتا ہے۔اگر بڑا مقصد سامنے ہو اگر یہ بات مد نظر ہو کہ ساری دنیا کو فتح کرنا ہے۔اگر یہ بات آنکھوں کے آگے ہو کہ حضرت مسیح موعود کی تعلیم کو ساری دنیا میں پھیلانا ہے تو پھر کس طرح معمولی باتوں پر لڑائی جھگڑا اختلافات اور انشقاق پیدا ہو سکتا ہے وہ لوگ جو جماعت میں فتنہ کا موجب بنتے اور آپس میں لڑتے جھگڑتے ہیں وہ وہی ہوتے ہیں جن کے سامنے سے یہ مقصد جاتا رہتا ہے۔وہ دین کی خطر ناک حالت نہیں دیکھتے۔اور اپنے چھوٹے چھوٹے فوائد کو دیکھتے ہیں۔وہ اسلام کو دنیا میں پھیلانے کی کوشش نہیں کرتے اور اپنے ذاتی اغراض کے حصول میں لگ جاتے ہیں۔تو اس رویا میں تین باتیں بیان ہوئی ہیں۔ایک یہ کہ ہمیں تبلیغ کی طرف خاص توجہ کرنی چاہئے۔دوم یہ کہ تبلیغ میں ہم اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے۔جب تک تربیت نہ کریں۔سوم اپنے مقصد کو سامنے سے ہٹا دینا موجب ہے ، ان اختلافات کا جو بعض دوستوں میں پیدا ہو جاتے ہیں۔یہ تین باتیں تو ہمارے متعلق ہیں۔لیکن چوتھی بات یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ ا