خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 13

13 دلاؤں۔اگر اس میں میرا ذاتی نفع ہے تو جو کام میں کہتا ہوں اسے کرنے سے قبل سوچ لو کہ اسے کیوں نفع پہنچائیں لیکن اگر اس میں میرا کوئی ذاتی نفع نہیں اور اگر غور کرو تو معلوم ہو جائے گا کہ فی الواقع میرا کوئی ذاتی نفع نہیں۔تو وہ بات میں آپ ہی کے فائدہ کے لئے آپ لوگوں سے کہتا ہوں۔اور وہ جس کی طرف توجہ کرنا آپ کا اپنا فرض تھا اس کی طرف توجہ دلانا میرا فرض نہ تھا۔سوائے اتنے فرض کے جتنا آپ لوگوں کا بھی ہے۔یعنی بحیثیت خداتعالی کا بندہ ہونے کے۔تو پھر کیا وجہ ہے کہ آپ لوگ بار بار توجہ دلانے کے باوجود زندگی میں تغیر نہیں پیدا کرتے اور اشاعت سلسلہ اور قیام سلسلہ کی طرف توجہ نہیں کرتے۔مثل مشہور ہے۔کہتے ہیں کوئی پہاڑی آدمی تھا۔جو سخت گرمی کے دنوں میں دھوپ میں بیٹھا تھا۔کسی شخص نے اسے کہا۔دیکھو تمھارے قریب درخت ہے۔اس کے سائے تلے بیٹھ جاؤ۔آگے سے جواب میں اس نے کہا۔میں سائے میں بیٹھنے کے لئے تیار تو ہوں مگر یہ بتاؤ دو گے کیا۔لوگ اس۔لطیفہ کو بیان کرتے ہوئے ہنستے ہیں۔اور حیران ہوتے ہیں کہ کیا واقعہ میں ایسے بیوقوف بھی دنیا میں ہو سکتے ہیں کہ جنھیں ان کے فائدہ کی بات بتائی جائے تو وہ کہیں اس کے کرنے پر کیا دو گے۔مگر میں کہتا ہوں کہ آپ لوگ اپنے نفسوں پر غور کر کے دیکھیں۔کیا یہی حالت دوسرے رنگ میں آپ کے اندر نہیں پائی جاتی۔کیا ایسی باتیں آپ لوگوں کی جسمانی روحانی اور قومی ترقی کا موجب نہیں ہیں۔جو آپ لوگوں کو بتائی جاتی ہیں۔پھر کیوں ان کی طرف توجہ نہیں کی جاتی۔کیا آپ لوگوں کی مثال اس پہاڑی آدمی کی سی نہیں۔جو دھوپ میں بیٹھا جل بھن رہا تھا اور جسے کہا گیا کہ سائے میں بیٹھ جاؤ۔تو اس نے کہا تھا۔کیوں بیٹھوں، کیا ملے گا؟ اسے یہی ملنا تھا کہ اس کی تکلیف دور ہو جاتی۔اسی طرح تم لوگوں کو یہ ملے گا کہ تمھارے قلوب کی اصلاح ہوگی۔تم خدا تعالٰی کے فضلوں کے وارث بن جاؤ گے۔پس اس میں کہنے والے کا تو کئی ذاتی فائدہ نہیں۔تمھارا ہی فائدہ ہے۔تم اپنی حالتوں پر غور کرو۔ہر قسم کے فتنہ و فساد کو چھوڑ کر اپنے نفوس کی اصلاح کے ساتھ ساتھ بنی نوع انسان کی اصلاح کی طرف بھی متوجہ ہو جاؤ۔یہ بہت بڑا کام اور بہت بڑا مقصد ہے جو تمھارے سامنے ہے اور تمھاری مثل اس بچہ کی سی ہے۔جو سرکنڈے کی شاخ اٹھا کر کہتا ہے۔یہ نیزہ ہے اور فخر کے ساتھ کہتا ہے۔میں اس سے دنیا کو فتح کر لوں گا۔ہم بھی دنیا کی فتح کے لئے نکلے ہیں۔مگر ہماری کمزوری اس بچہ کی کمزوری سے بھی زیادہ بڑھی ہوئی ہے۔ہماری تلواریں اس سرکنڈے سے بھی زیادہ کند ہیں۔اور ہماری حالت اس بچہ سے بھی زیادہ غیر مامون ہے۔اس لئے کہ بچہ اپنی حالت میں ایک ہے۔اور ایک میں شقاق نہیں