خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 118

118 ہے۔اس کا یہ مفہوم نہیں کہ روزہ رکھ کر انسان خدا کا مالک بن جاتا ہے۔مالک مالک ہی ہے اور بندہ بندہ ہی بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ روزہ رکھنے کے بدلے میں خدا مل جاتا ہے۔خدا کا قرب حاصل ہو جاتا ہے۔خدا کی معرفت میسر آجاتی ہے۔پس جب انسان نسلی اور ذاتی زندگی کو خدا تعالیٰ کے لئے قربان کر دیتا ہے۔تب خدا الملتا ہے۔اور جب تک انسان اپنے وجود کو قائم رکھتا ہے۔اور سمجھتا ہے کہ قوم بھی کچھ ہے۔وہ اندھیرے میں چکر لگاتا رہتا ہے۔اور کچھ نہیں پاسکتا۔پس رمضان کی اصل غرض اور فائدہ یہی ہے کہ خدا مل جائے۔خدا تعالیٰ کو ہمارے بھوکے پیاسے رکھنے سے کیا فائدہ ہے۔اسی طرح اگر مرد و عورت کے تعلقات نہ ہوں۔تو اسے کیا نقصان خدا تعالیٰ نے خود انسان میں بھوک رکھی اور اس کے لئے کھانا پیدا کیا ہے۔اسی طرح خود پیاس رکھی اور پانی پیدا کیا۔خود مرد کو عورت کے لئے اور عورت کو مرد کے لئے پیدا کیا۔تاکہ ایک دوسرے سے آرام اور سکون حاصل کریں۔پس جب کہ اللہ تعالیٰ نے مرد و عورت کا جوڑا اس لئے پیدا کیا ہے۔کہ ایک دوسرے سے تسکین حاصل کریں۔اور کھانا اور پانی اس لئے پیدا کیا ہے۔کہ انسان کھائیں اور پیئیں۔تو پھر اس کی کیا ضرورت ہے کہ ان سے روکے۔دراصل یہ انسان کو سبق دیا گیا ہے کہ اس کی فردی اور قومی زندگی صرف خدا کے لئے ہی ہونی چاہئے۔اگر کوئی رمضان سے یہ سبق حاصل نہیں کرتا۔تو پھر اس کا بھوکا اور پیاسا رہنا محض بھوکا اور پیاسا رہنا ہی ہے۔اس کی بھوک اور پیاس خدا کے لئے نہیں ہے۔اس نے سوائے اس کے کہ قانون قدرت توڑا اور کچھ نہیں کیا۔اگر ایک شخص کھانا نہ کھائے اور بھوکا رہ کر مر جانا چاہے تو وہ شریعت کا گنہگار ہو گا۔اسی طرح اگر کوئی شادی نہ کرے اور کسے خدا تعالیٰ کو اس سے کیا یہ میرا ذاتی کام ہے تو وہ بھی گنہگار ہو گا۔قرآن کریم میں اسے نا پسند کیا گیا ہے۔اور رسول کریم ﷺ نے شادی نہ کرنے والے کے متعلق فرمایا ہے کہ آوارہ گردی میں مرگیا۔پس کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ شادی کرنا میرا ذاتی معاملہ ہے۔خدا کو کیا ہے۔میں شادی کروں یا نہ کروں۔یا اسی طرح زندگی میری ذاتی ہے۔اگر میں کھانا نہ کھا کر مر جاؤں تو خدا کو اس سے کیا کیونکہ قانون قدرت خدا تعالیٰ نے بنایا ہے۔اور اس کی پابندی فرض ہے پس اگر کوئی روزہ کی غرض اور مقصد پورا نہیں کرتا۔تو بھوکا پیاسا رہ کر قانون قدرت کو توڑنے کا گناہ گار ہوتا ہے۔روزہ کی غرض یہی ہے کہ انسان اپنی ذاتی اور قومی زندگی خدا تعالیٰ کے لئے قربان کرنے کے لئے تیار رہے۔اگر روزہ رکھ کر کوئی شخص یہ آمادگی اور تیاری اپنے اندر پاتا ہے۔تو بے شک وہ روزہ سے فائدہ اٹھاتا ہے۔لیکن جب ذاتی قربانی کا مطالبہ ہو تو وہ اپنے آپ کو اس کے لئے تیار نہ پائے یا جب قومی قربانی کا مطالبہ ہو تو اس کے لئے آمادگی نہ رکھتا ہو۔تو سمجھ لے کہ روزہ کا اسے کچھ فائدہ نہیں شخص