خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 119

119 ہوا۔جس شخص کو ذاتی یا قومی قربانی کے وقت سستی یا کسل ہو۔اس کا روزہ رکھنا بے فائدہ ہے۔اور قانون قدرت کو توڑنا ہے۔اور جو قانون شریعت کی پابندی نہ کرتا ہوا قانون قدرت کو توڑتا ہے وہ سزا کا مستحق ہوتا ہے۔انعام کا مستحق نہیں ہوتا۔پس اس مبارک مہینہ میں میں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس سے برکات حاصل کرنے کی کوشش کریں۔معمولی تکلیف سے روزہ نہیں چھوڑنا چاہئے۔خدا تعالیٰ نے روزہ نہ رکھنے کا عذر بیماری رکھا ہے۔۲ یا سفر اس کے بغیر روزہ نہ رکھنا خدا تعالیٰ کے حکم کو توڑنا ہے۔تو بیمار یا بیماری کی حالت کو چھوڑ کر (بیماری کی حالت میں اس لئے کہتا ہوں کہ بیماری کی تعریف اتنی محدود ہے کہ بعض بیماریاں اس میں سے نکل جاتی ہیں مثلاً بڑھاپا۔بوڑھے آدمی کو بیمار نہیں سمجھا جاتا۔ایسے آدمیوں کو چھوڑ کر) جو انسان بالغ ہو چکا ہو۔اس کا فرض ہے کہ روزہ رکھے۔ہاں بچوں پر جو بالغ نہ ہوئے ہوں یا عورتوں پر جنہیں ماہواری ایام آئے ہوں۔روزہ فرض نہیں روزہ کا بچپن اور ہے اور نماز کے لئے اور یہ بات میں نے گذشتہ سال بہت تفصیل سے بیان کی تھی۔نماز کے لئے تو 10-1 سال کی عمر تک بچپن ختم ہو جاتا ہے۔لیکن روزہ کے لئے بچپن اس وقت تک ہوتا ہے جب تک بچہ پوری طاقت حاصل نہیں کر لیتا۔اس وجہ سے مختلف بچوں کے یہ بچپن مختلف ہوتا ہے۔جو ۱۵ سے ۲۰ سال کا ہوتا ہے۔ہاں اگر بچپن کی عمر میں بچے تھوڑے تھوڑے روزے ہر سال رکھیں۔تو اچھا ہے۔اس طرح انہیں عادت ہو جائے گی۔مگر بہت چھوٹی عمر میں اس طرح بھی روزہ نہیں رکھوانا چاہئے۔یہ شریعت پر عمل کرانا نہیں۔بلکہ بچہ کو بیمار کر کے ہمیشہ کے لئے نا قابل بناتا ہے۔یہ غلط خیال پھیلا ہوا ہے کہ بچہ کا روزہ ماں باپ کو مل جاتا ہے۔حالانکہ ایسے بچہ سے روزہ رکھوانا جو کمزور ہو اور اپنی جسمانی صحت کے لحاظ سے استوار نہ ہو چکا ہو۔ثواب نہیں۔بلکہ گناہ کا ارتکاب کرنا ہے۔ہاں جب بچہ کی ضروری قوتیں نشو نما پا چکی ہوں تو ہر سال کچھ نہ کچھ روزے رکھوانے چاہیئیں۔تاکہ عادت ہو جائے مثلاً پہلے پہل ایک دن روزہ رکھوایا۔پھر دو تین چھوڑ دیئے۔پھر دوسری دفعہ رکھوایا ایک چھڑوا دیا۔میرے نزدیک بعض بچے تو ۱۵ سال کی عمر میں اس حد کو پہنچ جاتے ہیں کہ روزہ ان کے لئے فرض ہو جاتا ہے۔بعض ۱۶ ۱۷ ۱۸ - ۱۹- اور حد میں سال تک اس حالت کو پہنچتے ہیں۔اس وقت روزہ رکھنا ضروری ہے۔- - پس یاد رکھو روزہ فرض ہونے کی حالت میں بلا وجہ روزہ نہ رکھنا اپنے ایمان کو ضائع کرنا ہے۔ہمارے ملک میں دو قسم کے خیال پائے جاتے ہیں۔ایک تو یہ کہ خواہ مر جائیں روزہ نہیں چھوڑنا۔اور دوسرے یہ کہ کمزوری ہو گئی ہے۔اس لئے روزہ نہیں رکھتے۔مگر وہ کونسا آدمی ہے کہ جو روزہ رکھے۔اور طاقت ور ہو جائے۔ہاں بعض لوگ جو رمضان میں خاص کھانے کھایا کرتے ہیں۔