خطبات محمود (جلد 10) — Page 117
117 ہی آئی ہے۔اگر خدا تعالیٰ بصیر نہ ہوتا۔تو انسان بھی بصیر نہ بن سکتا۔اگر خدا تعالیٰ سمیع نہ ہوتا تو انسان بھی سمیع نہ بن سکتا۔پس وہ منبع ہے تمام طاقتوں اور قوتوں کا اور اس منبع سے اسی صورت میں طاقتیں حاصل ہو سکتی ہیں کہ خدا اور بندہ کے درمیان جو روکیں ہیں وہ دور ہو جائیں۔چونکہ خدا تعالٰی نے بندہ کو ارادہ اور اختیار دیا ہے کہ وہ جس طرح چاہے کوئی کام کرے۔اس لئے جب تک بندہ اپنا ارادہ چلاتا ہے۔اس وقت تک خدا تعالیٰ کی طاقتیں اس میں آنے سے رکی رہتی ہیں۔انسان کی اپنی خواہشیں ڈاٹ کی طرح ہوتی ہیں۔جو رکاوٹ کا باعث ہو جاتی ہیں۔اور اس وقت تک خدا کا فضل انسان کے اندر داخل ہو کر اسے خدا کا جلوہ گاہ اور مظہر نہیں بناتا جب تک وہ دور نہ ہو جائیں۔ہاں جب انسان یہ سمجھ لے کہ میری ہر چیز خدا تعالیٰ کی طرف سے آئی ہے۔ہم سمیع نہیں بن سکتے تھے اگر خدا سمیع نہ ہوتا۔اس نے اپنے فضل سے یہ طاقت دی ہے۔اسی طرح اصل بصیر خدا تعالیٰ ہے۔اسی نے ہمیں بصارت دی ہے۔اصل علیم خدا ہی ہے۔اسی نے ہمیں علم بخشا ہے۔اصل مالک خدا ہی ہے۔اسی نے ہمارے سپرد چیزوں کو کیا ہے جب تک انسان اس طرح اپنا سب کچھ خدا ہی کا نہیں سمجھ لیتا اور خدا کے سپرد نہیں کر دیتا اس وقت تک خدا تعالیٰ کی صفات اس پر جلوہ گر نہیں ہو سکتیں۔ا رمضان اس بات کی علامت قرار دیا گیا ہے کہ ہم اپنی ہر ایک چیز خدا تعالیٰ کے سپرد کرتے ہیں۔رمضان میں ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ہر چیز خدا ہی کی ہے کیونکہ رمضان میں اقرار کرتے ہیں کہ ہماری زندگی اور ہماری موت خدا ہی کے لئے ہے۔ہم کھانے پینے کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔یہ فردی زندگی کے لئے ضروری ہے۔اور بغیر نسل چلنے کے قوم زندہ نہیں رہ سکتی۔یہ قومی زندگی ہے۔مگر ہم ان دونوں کو رمضان میں قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔جب ہم کھانا پینا چھوڑتے ہیں۔تو اس سے ہماری یہ مراد ہوتی ہے کہ اپنی زندگی خدا تعالیٰ کے لئے قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔اور جب مرد عورت سے تعلقات چھوڑتا یا عورت مرد سے چھوڑتی ہے تو اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ ہم قومی زندگی بھی خدا کے لئے قربان کرتے ہیں۔اسی طرح ہم اپنے وجود کو مٹا دیتے ہیں۔اور اقرار کرتے ہیں کہ ہماری فردی زندگی خدا ہی کے لئے ہے اس طرح ہم یہ بھی اقرار کرتے ہیں کہ ہماری قومی زندگی بھی خدا کے لئے ہے۔اگر ہمیں خدا کے لئے اپنے آپ کو قربان کرنا پڑے گا تو قربان کر دیں گے۔اگر ہمیں خدا کے لئے قوم کو قربان کرنا پڑے گا تو اس کو بھی قربان کر دیں گے۔جب انسان حالت اختیار کر لیتا ہے۔تب خدا ملتا ہے۔اور یہی مطلب ہے اس ارشاد کا کہ روزہ کی جزا خود خدا