خطبات نور — Page 71
71 میسیج مر گئے۔حضرت اقدس نے اس مسئلہ کی انتہا کر دی اور قرآن شریف سے اس کو ایسا ثابت کر دیا کہ اب دوسرا کیا لکھے گا۔روایت کشی میں مرزا خدا بخش صاحب نے حد کر دی ہے۔میں سوچنے لگا کہ مجھے کوئی نئی دلیل اس کے متعلق سمجھ میں آسکتی ہے۔قرآن کو اٹھاتے ہی یہ بات ذہن میں آئی۔اِنَّ مَثَلَ عيسى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ (ال عمران:۳) جہاں جہاں اس کو دیکھا تو مردوں کے جی اٹھنے پر آیا ہے۔پھر آدم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک کسی نبی کی وفات کا تذکرہ نہیں مگر مسیح کی وفات کا تذکرہ ہے۔پھر مشکلات ہیں تو کیا ہیں؟ جواب ہے وہی اندرونی اور بیرونی مشکلات جو ابھی کہہ چکا ہوں۔کل بیٹھے بیٹھے مجھے خیال آیا کہ ایسا نہ ہو عید تجھ کو پڑھانی پڑھے۔جیسے مجددوں کی ضرورت ہے، اس لئے عید کے متعلق تیرے دل میں نئی نئی بات کیا آتی ہے۔اس دھن میں کبھی فقہ کی کتابیں پڑھتا۔کبھی احادیث کو دیکھتا۔کبھی مختصرات پر نظر کر ہے۔آخر میرے جی میں آیا کہ ان لوگوں کی کتابوں کو دیکھوں جو اخلاق اور ضروریات کو بیان کر سکتے ہیں۔اس مطلب کے لئے میں نے ایک کتاب لی۔۴۲ صفحوں اور وہ بھی بہت با یک سطروں میں عید کا ذکر تھا۔میں اسے پڑھنے لگا تو دیکھا کہ لیے مباہشات ہیں جن کا کچھ پتہ نہ چلتا تھا۔آخر میں نے کہا کہ چھوڑ دوں۔پھر کہا شاید کچھ آگے لکھا ہو۔اسی طرح پر ساری کتاب کو ختم کیا۔آخر مجھے افسوس ہی ہوا کہ کس قدر وقت ضائع کیا۔لیکن میری نیت چونکہ بخیر تھی اس لئے وہ افسوس جاتا رہا۔لیکن مجھے یہ حیران کر دینے والا خیال پیدا ہوا کہ کس قدر مشکلات اس ایک عید کے معاملے میں ہیں۔کوئی کہتا ہے کہ کس وقت نماز پڑھی جاوے۔ایک رحمہ سورج نکل آیا ہو۔کس وقت اس عشرہ میں تمجید ، تکبیر تقدیس، تسبیح اللہ کو پسند ہے اور ہر وقت خدا کی یاد کی جاوے۔پھر یہ کہ دو رکعت نماز پڑھ لو۔پھر بحث شروع کی کہ فرض عین ہے یا نہیں۔مستحب ہے یا کیا؟ تکبیریں کتنی پڑھنی چاہئیں وغیرہ۔کپڑوں، خطبوں کے متعلق کیا احکام ہیں۔غرض ایک لمبا سلسلہ تھا۔مجھے اس پر غور کرتے کرتے یہ معلوم ہوا کہ وہ مقدس دین جس کو اللہ تعالٰی نے بھیجا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے جس کو پہنچایا اس کا خلاصہ تو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان ہو۔ملائکہ پر ایمان ہو۔اس کے رسولوں پر ایمان ہو۔اس کی کتابوں پر ایمان ہو۔تقدیر پر ایمان ہو۔ختم نبوت اور قیامت پر ایمان ہو اور ضرورت ہے کہ اس میں کچھ بھی کمی بیشی نہ - لیکن یہ ایزادی کی ہی بات تھی جو ۴۲ صفحے لکھ دیئے۔اب اس کے حل کرنے والا بھی تو کوئی ہونا ہو۔چاہیئے۔ایک شیعہ نے مجھے خط لکھا کہ تم جو دین کی طرف متوجہ ہو یہ تو بتاؤ کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کے خلیفہ