خطبات نور — Page 70
70 سواں حصہ بھی قرآن شریف کے لئے خرچ نہیں کر سکتے۔چاہئے تو یہ تھا کہ ساری توجہ اسی کی طرف ہوتی مگر ساری چھوڑ ادھوری بھی نہیں۔مجھے اس وقت ایک معمول کی بات یاد آگئی ہے۔میں نے اس کو کہا کہ قرآن شریف پڑھو۔اس نے کہا کہ کوئی اعلیٰ درجہ کا خوبصورت قرآن ہو تو دو۔میں نے اپنے دل میں کہا اللہ ! یہ شخص اپنے کوٹ پتلون کے لئے تو اس قدر روپیہ خرچ کر سکتا ہے اور نہیں لے سکتا تو قرآن نہیں لے سکتا۔یہ بناوٹی بات نہیں ہے۔خود سوچ کر دیکھ لو جس قدر جیب خرچ کے واسطے دیتے ہو دین پڑھانے کے لئے اتنا نہیں دیتے۔توحید کا تذکرہ میں نے اس لئے نہیں کیا کہ مسلمان جو سامنے ہیں کفار نہیں۔نبوت کا ذکر نہیں کیا اس لئے کہ برہمو نہیں ہیں۔لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ پڑھنے والے میرے سامنے ہیں۔انتخاب کا ذکر کیا تھا اس کی ایک ضرورت تھی۔اس میں بات چل پڑی کہ کیسی ضرورت ہے کہ قرآن کریم کی طرف توجہ دلاؤں۔دنیا کی لعنت ملامت۔طعن و تشنیع سب کچھ سنا۔پھر بھی ٹول کر دیکھو که خود قرآن دانی، قرآن فہمی کے لئے کیا کیا۔کتنی کوشش کی؟ جواب یہی ہے کہ کچھ بھی نہیں۔ہرگز نہیں۔قطعاً نہیں کی۔حضرت امام نے طاعون کے اشتہار دیے۔تم ہی بتاؤ کہ تبدیلی کی تو کیا کی؟ غرض کیسے کیسے مشکلات ہیں۔رہنمائی کے لئے صرف ایک ہی چیز تھی جس کا نام شفا اور نور ہے۔اس کے سمجھنے کے لئے آپ نے کیا فکر کی ہے؟ اندرونی یہ آفت اور بیرونی وہ مشکلات۔بعض لوگ کہہ اٹھتے ہیں کہ خدا تعالی کی کامل کتاب ہم میں موجود ہے۔اس کے ہوتے ہوئے اور کسی کی کیا ضرورت ہے؟ میں کہتا ہوں کہ اس کتاب ہی کو اگر پڑھتے تو یہ سوال ہر گز نہ کرتے۔کیونکہ اس میں صاف لکھا ہے هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِينَ رَسُولاً مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آياته الحمودي كتاب چاہئے کتاب کا پڑھنے والا بھی تو ضروری ہے اور اس کے پڑھانے والا ایسا ہو جو مزکی النفس اور مطر القلب ہو۔محمد رسول اللہ ابگم نہیں بلکہ سراً وجهراً خرچ کرنے والا خود محبوب ہو کر دوسروں کو محبوب بنانے والا۔اسی طرح کتاب سکھ دینے والی ہے مگر اس کے لئے مز کی معلم کی ضرورت ہے۔بدوں اس کے وہ کارگر نہیں ہو سکتی۔یہ ضرورت ہے مامور من اللہ کی۔میں بھی اپنی جگہ درس دے لیا کرتا ہوں اور گھر میں اور باہر آکر بھی قرآن پڑھتا رہتا ہوں۔مگر کیا مزکی ہوں؟ تاکہ میں اپنے عملدرآمد کے رنگ میں دوسرے کو دکھا سکوں۔نہیں، نہیں اور ہرگز نہیں۔