خطبات نور — Page 69
69 سلسلہ سے آزاد پیدا ہو رہے ہیں۔پھر اندرونی مشکلات قوم کو سمجھنے کے واسطے اہل دل گروہ قوم کا دل اور علماء دماغ تھے۔امراء حکومت کرنے والے تھے۔لیکن اگر اہل دل علماء اور امراء کے حالات کو غور سے دیکھیں تو ایک عجیب حیرت ہوتی ہے۔عظمت الہی اور خشیت الہی علوم قرآنی کے جاننے کا ذریعہ تھا۔إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ (فاطر (۳۹) یایوں کہو کہ اہل دل گروہ علماء سے بنتا ہے یا اہل دل ہی عالم ہونے چاہیے تھے مگر یہاں یہ عالم ہی دوسرا ہے۔فقر اور علم میں باہم تباعد ضروری سمجھا جاتا ہے اور کہہ دیا جاتا ہے کہ عالم اور فقر کیا؟ وہ علم جو خشیتہ اللہ کا موجب ہوتا اور دل میں ایک رفت پیدا کرتا، ہر گز نہیں رہا۔رہی نری زبان دانی جس پر کوئی یونیورسٹی فکر کر سکتی ہے وہ اس سے زیادہ نہیں کہ وہ ان لوگوں کے کلام ہیں جو شراب خور فاسق اور اللہ تعالی کے نام سے نا آشنا تھے۔عربی زبان کے متعلق مجھ سے لوگوں نے پوچھا ہے اور میں نے بجائے خود بھی غور کیا ہے۔چار قسم کی زبان ہے۔اول اللہ کی زبان جو قرآن شریف میں موجود ہے۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان اس سے اتر کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زبان۔ان تین قسم کی پاک زبانوں سے پوری محرومی ہے۔چوتھا درجہ وہی ہے جس کا میں نے ابھی ذکر کیا۔وہ جاہلیت کے شعراء کی زبان جن کے اخلاق و عادات ایسے تھے کہ ان کا ذکر بھی مجھے اچھا نہیں معلوم دیتا۔یہ ایک بار یک علم ہے جس کی لوگوں کو بہت کم اطلاع ہے۔زبان اندر ہی اندر انسان کے روحانی اور اخلاقی قومی پر ایک زبردست اثر کرتی ہے۔بہت سی کتابیں اس قسم کی موجود ہیں جن کو پڑھ پڑھ کر دنیا کا ایک بہت بڑا حصہ فسق و فجور میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو گیا ہے۔استادوں اور کتابوں کا اثر بہت آہستہ دیر پا ہوتا ہے۔اس لئے یہ بات تسلیم کی گئی ہے کہ استادوں کے تقرر اور تعلیمی کتابوں کے انتخاب میں بڑی فکر کرنی چاہئے کیونکہ ان کا اثر اندر ہی اندر چلتا ہے۔اب دیکھ لو کہ اللہ کی زبان اس کے کامل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان صحابہ کرام کی زبان کی طرف مطلق توجہ نہیں کی۔یونیورسٹی نے اگر کوئی حصہ لیا تو وہ بھی ان لوگوں کا جن کے کلام کا اثر اخلاق اور عادات پر اچھا نہیں پڑ سکتا۔میں تم سے پوچھتا ہوں کہ بتاؤ تو سہی کہ تم نے کس قدر روپیہ کس قدر وقت اور محنت اس پر کی؟ جواب یہی ہو گا کہ کچھ نہیں۔میں نے بہت سے آدمیوں کو دیکھا ہے کہ جب ان کو کہا گیا کہ قرآن شریف بھی پڑھا کرو تو انہوں نے آخر کہا تو یہی کہا کہ کوئی بہت ہی خوبصورت عمدہ سا قرآن دو اور وہ بھی مفت۔اللہ ! اللہ !! ناولوں اور انگریزی کتابوں کی خرید میں جس قدر روپیہ خرچ کیا جاتا ہے اس کا