خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 61 of 703

خطبات نور — Page 61

61 نے اپنی ہستی ، اپنی توحید اپنے اسماء اپنے محامد اور لا انتہا عجائبات قدرت کا اظہار فرمایا ہے اور بعد اس بیان کے جو در حقیقت لا AND ADATA اللہ کے معنوں کا بیان ہے، اس کے دوسرے جزو مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ پر بحث کی ہے اور ضرورت نبوت، پھر ختم نبوت پر لطیف طرز سے بحث کی ہے اور بیان کیا ہے کہ کیوں خدا کی طرف سے کوئی مامور ہو کر آتا ہے اور اس کا کیا کام ہوتا ہے؟ پھر اس آیت میں بتایا ہے کہ جو شخص مامور من اللہ اور حجۃ اللہ ہو کر آتے ہیں وہ بلحاظ زمانہ بلحاظ مکان عین ضرورت کے وقت آتے ہیں اور ان کی شناخت کے لئے وہی نشانات ہیں جو اس آیت میں بیان کئے جاتے ہیں۔وہ کیا کام کرتے ہیں۔ان پر کیا اعتراض ہوتے ہیں۔دوسروں کی نسبت ان میں کیا خصوصیت ہوتی ہے ؟ ان دو آچوں میں انہی باتوں کا تذکرہ ہے۔ان میں سے پہلی آیت شریف کا ترجمہ یہ ہے، مگر ترجمہ سے پیشتر یہ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے انسان کو ممتاز بنایا ہے اور پھر انسانوں میں سے کچھ لائق اور بعض نالائق ہوتے ہیں اور اس طرح پر خود ان میں ایک امتیاز قائم کرتا ہے۔غرض نبوت کی ضرورت اور اس کے اصول کے سمجھنے کے لئے اللہ تعالیٰ اس آیت میں ایک نہایت ہی عجیب بات سناتا ہے۔" مثل " اعلیٰ درجہ کی عجیب بات کو کہتے ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ ایک عجیب بات اور نہایت ہی اعلیٰ درجہ کی بات سناتا ہے۔کوئی کسی کا غلام ہے، وہ عبد جو کسی کا مملوک ہے اس کا مالک اس کے لئے بہت سے کام رکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کا غلام وہ کام کرے مگر غلام کی یہ حالت ہے کہ لا يقدر جس کام کو کہا جاتا ہے وہ مضائقہ کرتا ہے اور اپنے قول و فعل ، حرکات و سکنات سے بتاتا ہے کہ آقا! یہ تو نہیں ہو سکتا۔وہ زبان سے کے یا اعمال سے دکھاوے، اس کا مطلب یہی ہے کہ میں اس کام کے کرنے کے قابل نہیں۔اب ایک اور غلام ہے جو کام اس کے سپرد کیا جاوے ، جس خدمت پر اسے مامور کیا جاوے پوری تندہی اور خوش اسلوبی سے اس کو سر انجام دیتا ہے۔جب اس کو کوئی مال دیا جاوے تو وہ اس کو کیا کرتا ہے؟ اس مال کو لیتا ہے۔جہاں آقا کا منشاء ہو کہ مخفی طور پر دیا جاوے وہاں مخفی طور پر دیتا ہے اور جہلی مالک کی مرضی ہو کہ ظاہر طور سے دیا جاوے وہاں کھلے طور پر دیتا ہے۔غرض وہ مالک کی مرضی اور منشاء کا خوب علم رکھتا ہے اور اس کے ہی مطابق عمل درآمد کرتا ہے۔اور مخفی در مخفی اور ظاہر در ظاہر موقعوں پر ہی جہاں مالک کی مصلحت ہوتی ہے اس مال کو خرچ کرتا ہے۔اب تم اپنی فطرتوں سے پوچھو کہ یہ دو غلام ہیں جن میں سے ایک تو ایسا ہے کہ کسی کام کے کرنے کے بھی قابل اور لائق نہیں۔اور دوسرا ہے کہ اپنے مالک کی مرضی اور مصلحت کا پورا علم رکھتا ہے اور صرف علم ہی نہیں اس پر عمل بھی کرتا اور سراً اور جہراً دونوں قسم کے اخراجات کر سکتا ہے۔اب یہ کیسی صاف بات ہے اپنی ہی فطرت سے فیصلہ