خطبات نور — Page 60
۳۰ مارچ ۱۹۰۱ء 60 خطبہ کے شروع میں آپ نے فرمایا۔خطبہ عید الاضحی (ایڈ میٹر " حکم " کے الفاظ میں) ☆ عید کا خطبہ پڑھنے کے واسطے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ارادہ فرمایا تو لوگوں کو کہا کہ جس کی مرضی ہو بیٹھے ، جس کی مرضی نہ ہو یا اسباب اس کے نہ بیٹھنے کے ہوں وہ بے شک چلا جاوے اس کے بعد آپ نے مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت فرمائی۔ضرب الله مثلا عَبْدًا مَمْلُوا لَا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ وَ مَنْ رَّزَقْنَهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَّ جَهْرًا هَلْ يَسْتَوْنَ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ (النحل :) میں نے یہ آیت شریف سورۃ محل میں سے پڑھی ہے۔اس کے ابتدا میں حضرت حق سبحانہ تعالیٰ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ شَهِدْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيْدَ فَلَمَّا قَضَى الصَّلاةَ قَالَ إِنَّا نَخْطُبُ فَمَنْ اَحَبَّ أَنْ يَجْلِسَ لِلْخُطْبَةِ فَلْيَجْلِسْ وَ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَذْهَبَ فَلْيَذْهَبْ - اسنن ابی دائود کتاب الصلوة باب الجلوس للخطبة۔نیز دیکھیں۔سنن نسائی کتاب صلوة العيدين - سنن ابن ماجه كتاب اقامة الصلوة و السنة فيها)