خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 645 of 703

خطبات نور — Page 645

645 کرتا ہے اور بڑا تکبر کرتا ہے۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے مدینہ کو تشریف لے گئے تو مکہ میں تو آپ کو بہت سی ہولتیں تھیں۔مکہ میں آپ کے چھوٹے بڑے بوڑھے، ادھیڑر ہر قسم کے رشتہ دار بھی تھے اور آپ کے حمایتی بھی وہاں بہت تھے۔مکہ میں آپ کے دوست غم خوار بھی تھے اور آپ دشمنوں کو خوب جانتے تھے اور ان کی منصوبہ بازی کا آپ کو خوب علم ہو جاتا تھا اور آپ ان کی چالاکیوں اور اپنے بچاؤ کے سامان کو جانتے تھے۔تو جب آپ مدینہ شریف میں تشریف لائے تو آپ کو اس دشمن کی شرارت کا کچھ علم نہ ہوتا تھا اور پھر آپ کے یہاں اور بھی دشمن تھے۔بنو قینقاع اور بنو قریظہ اور بنو تفسیر آپ کے دشمن تھے اور پھر جہاں آپ اترے تھے وہاں ابو عامر راہب جو بنی عمرو بن عوف میں سے تھا اس کا جتھا آپ کا دشمن تھا۔یہود چاہتے تھے کہ ایران کے ساتھ مل کر ان سے آپ کو ہلاک کروا دیں اور عیسائی قیصر کے ساتھ ملنا چاہتے تھے اور انہوں نے اپنے ساتھ غطفان اور فزارہ کو بھی ملالیا تھا۔یہ نو مشکلات آپ کو تھیں۔اس سے بڑھ کر یہ کہ یہاں منافقوں کا ایک گروہ بھی پیدا ہو گیا تھا۔ان منافقوں نے عجیب عجیب کارروائیاں کیں۔وہ آپ کے پاس بھی آتے تھے اور آپ کے دشمنوں کے پاس بھی جاتے تھے۔اور بارہویں بات جو اس سے بھی سخت تھی وہ یہ کہ مکہ والے ان پڑھ تھے اور وہ بے قانون تھے۔ان کا مقابلہ صرف عقل سے ہی تھا۔مگر یہاں تمام اہل کتاب پڑھے لکھے ہوئے تھے اور ان کے پاس بڑی بڑی کتابیں تھیں۔تورات اور انجیل اور اس کے سوا اور بھی کتابیں ان کے پاس تھیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوچا کہ مدینہ میں مشکلات بہت ہیں اس لئے آپ نے عیسائیوں اور مشرکوں سے معاہدہ کروا لیا کہ لاتَسْفِكُونَ دِمَاءَكُمْ آپس میں خونریزی نہ کرنا۔وَلَا تُخْرِجُونَ أَنْفُسَكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ ایک دوسرے کو اپنے ملک سے نکالنا نہیں۔ثُمَّ اَقْرَرْتُمْ تم نے اقرار تو کیا۔وَانْتُمْ تَشْهَدُونَ اور تم گواہی دیتے ہو۔جیسے تم نے ہمارے ہاتھ پر اقرار کیا۔کہتا تو آسان تھا۔مگر معاملات میں دین کو دنیا پر مقدم کر کے دکھلانا (شكل) ثُمَّ انْتُمْ هُؤلاء تَقْتُلُونَ انْفُسَكُمْ پھر تم ہی ہو کہ تم نے وعدہ تو کیا مگر ایفاء نہ کیا اور تم خونریزی کرتے ہو۔وَتُخْرِجُونَ أَنْفُسَكُمْ اور تمہیں اس سے منع کیا تھا کہ کسی کو اپنے گھر سے نہ نکالنا مگر تم ان کو ان کے گھروں سے باہر نکالتے ہو۔تَظَاهَرُونَ عَلَيْهِمْ ان کی پیٹھ بھرتے ہو ظلم اور زیادتی سے۔کبھی کبھی کوئی نیک کام بھی کر لیتے ہو۔وَاِنْ يَّأْتُوكُمْ أَسْرَى تُفَدُوهُمْ- اگر کوئی قیدی آ