خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 644 of 703

خطبات نور — Page 644

644 (القمر (۱۸) مگر قرآن کہاں آسان ہے؟ میں نے کہا آسان ہے۔ہم دوسری کتابوں کو جمع کرتے اور ان کی زبانوں کو سیکھتے تو پہلے ہمیں ان کتابوں کا ملنا مشکل اور پھر ان زبانوں کا سیکھنا مشکل اور پھر ان کو ایک زبان میں کرنا مشکل۔پھر اس کی تفسیر کون کرتا۔قرآن کریم نے دعوی کیا ہے۔فِيْهَا كُتُبْ قَيِّمَةٌ (البينة :) جو کتاب دنیا میں آئی اور جو اس میں نصیحتیں ہیں ان تمام کا جامع قرآن ہے۔باوجود اس جامع ہونے کے ایک ایسی زبان میں ہے جو ہر ایک ملک میں بولی جاتی ہے۔قرآن کریم میں اتنی خوبیاں ہیں۔پہلی کتابوں کی غلطیوں کو الگ کر کے ان کے مفید حصہ کو عمدہ طور پر پیش کیا ہے اور جو ضروریات موجودہ زمانہ کی تھیں ان کو اعلیٰ رنگ میں پیش کیا۔اس کے سوا جتنے مضامین ہیں اللہ کی ہستی ، قیامت ملائکہ کتب، جزاء سزا اور اخلاق میں جو پیچیدہ مسئلے ہیں، ان کو بیان کیا۔جیسے کہ کوئی بد کار ہمارے مذہب پر ناپاک حملہ کرے تو اس کے مقابلے کے لئے فرمایا کہ ان کو گالیاں فَيَسُبُّوا اللهَ عَدُوا بِغَيْرِ عِلْمٍ (الانعام) پھروہ اللہ کو اپنی نادانی کے سبب گالیاں دیں گے۔كَذَالِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ (الانعام) ہر ایک امت کے لئے وہ اعمال جو اس کے کرنے کے قابل تھے وہ اس کے سامنے خوبصورت کر کے پیش کئے گئے تھے۔مگر پھر اندھوں کے لئے روشنی کا کیا فائدہ؟ میں نے اس کا مقابلہ دوسری کتابوں سے کیا ہے۔انجیل کو دیکھو وہ تو اس سے شروع ہوتی ہے کہ فلاں بیٹا فلاں کا اور فلاں بیٹا فلاں کا۔مگر قرآن کریم الحمد للہ سے شروع ہوتا ہے۔اور انجیل کے اخیر میں لکھا ہے کہ پھر اس کو یہودیوں نے پھانسی دے دیا۔ہماری کتاب کے آخر میں قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ملِكِ النَّاسِ (الناس: ٣٢) لکھا ہے۔بڑا افسوس ہے کہ مسلمانوں کے پاس ایک ایسی اعلیٰ کتاب ہے مگر وہ عملد رآمد کے لئے بڑے کچے ہیں۔حدیث شریف میں آتا ہے کہ اگر کوئی کسی کی انگل بھر زمین ظلم سے لے لے گا تو قیامت کے دن سات زمینیں اس کے گلے کا طوق ہوں گی مگر اس پر کوئی عمل نہیں ہے۔اس طرح معاملات میں دیکھا جاتا ہے کہ ایک آدمی رات بھر سوچتا رہتا ہے کہ کسی کے گھر روپیہ ہو تو اس سے کسی طریقہ سے لیا جاوے۔پھر اگر کسی نہ کسی طریقہ سے لے لیتے ہیں تو پھر واپس دینے میں نہیں آتے۔اسی طرح زنا لواطت، چوری، جھوٹ ، دعا فریب سے منع کیا گیا تھا مگر آجکل نوجوان اسی میں مبتلا ہیں۔اسی طرح تکبر اور بے جاغرور سے منع فرمایا تھا۔لیکن اس کے برخلاف میں دیکھتا ہوں کہ اگر کسی کو کوئی عمدہ بوٹ مل جاوے تو وہ اکڑتا ہے اور دوسروں کو پھر کہتا ہے او بلیک مین (!O, black man)۔دوسروں کی تحقیر