خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 54 of 703

خطبات نور — Page 54

54 ساتھ نظر آتی ہے جس طرح پر کئی سو سال پیشتر اس سے اللہ تعالیٰ کی علیم و خبیر ہستی کا کیسا پتہ لگتا ہے۔اگر انسانی منصوبہ اور ایک خیالی اور فرضی بات ہوتی تو اس کا نام و نشان اسی طرح مٹ جاتا جیسے دنیا کے اور بڑے بڑے مقدس قرار دیئے گئے مقامات کا نشان مٹ گیا۔مگر نہیں یہ اللہ تعالیٰ کی باتیں تھیں جو ہر زمانہ میں اس کی ہستی کا زندہ ثبوت ہیں۔یہ بات اللہ تعالیٰ کے عجائبات میں سے ہے کہ جس کو وہ عزت دینی چاہے وہ معزز و مکرم ہو جاتا ہے اور جس کو ذلیل کرنا چاہے وہ ذلیل ہو جاتا ہے۔انسانی کوشش اور سعی پر اس کا انحصار اور مدار نہیں ہے۔بیت اللہ کی عزت و حرمت کا ٹھیکیدار وہ خود ہو گیا ہے۔اس لئے کوئی نہیں کہ اس کی ذلت کا خواہشمند ہو اور خود ذلیل نہ ہو جائے۔اسی طرح پر یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ جس کی عزت کا ٹھیکہ لے لے وہ دنیا داروں کی ذلت کے ارادوں سے ذلیل ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔میں نے بار ہا سنایا ہے کہ جب مامور من اللہ آتا ہے تو لوگوں کو اس کی مخالفت کا ایک جوش ہوتا ہے اور یہ اس لئے ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی کے اعزاز کے لئے تل جائے اس کو کوئی ذلیل نہیں کر سکتا۔مدینہ طیبہ میں ایک راس المنافقین کا ارادہ ہوا لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لِيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الاذل (المنافقون:) ہم اگر لوٹ کر مدینہ پہنچیں گے تو ایک ذلیل گروہ کو معزز گروہ نکال دے گا۔جناب الہی نے فرمایا وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ (المنافقون:) معزز تو اللہ ہے اور اس کا رسول اور اس کی جماعت۔منافقوں کو یہ کبھی سمجھ نہیں آتی۔آخر ایام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک بھی منافق نہ رہا۔بلکہ یہ فرمایا مَلْعُوْنِيْنَ أَيْنَمَا ثُقِفُوا خِذُوا وَقُتِلُوا تَقْتِيلاً (الاحزاب:۲۳)۔اللہ تعالیٰ نے ارادہ کر لیا تھا کہ وہ تیری مجاورت میں بھی نہ رہیں گے۔تو حج کا مقام وہ مقام ہے کہ لاکھوں کروڑوں انسان اللہ کی یاد کے لئے حاضر ہوتے ہیں۔اللہ کی تحمید کے لئے مال و جان کو خطرات میں ڈالتے ہیں۔اہل و عیال اور رفقاء لوگوں کو چھوڑتے ہیں، پھر خدا کا فیضان کیسا جلوہ گری فرماتا ہے۔قرآن جو نازل فرمایا اس کی حفاظت کا خود ذمہ دار ہوا۔اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحَافِظُوْنَ - دنیا کی اور کسی کتاب کی نسبت یہ ارشاد خداوندی نہیں ہوا اور جس مقدس اور راستباز“ ہاں قوم کے مسلم امین اور صادق انسان پر یہ پاک کتاب نازل ہوئی، اس کی حفاظت کا ذمہ دار بھی مولیٰ کریم ہی ہوا۔چنانچہ وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (المائدة:۱۸) کی صدا اسی راستباز کو پہنچی۔پھر جو دین لے کر یہ خدا کا سچا نبی صلی اللہ علیہ وسلم آیا اس کا نام اسلام رکھا جس کے معنی ہی میں سلامتی موجود ہے۔