خطبات نور — Page 53
53 (البقرة :۱۹) کہہ دو کہ لوگوں کے فائدہ کے لئے یہ وقت مقرر فرمائے ہیں۔کیسا ہی خوش قسمت ہے وہ انسان جس کو صحت، فرصت پھر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے علم بھی عطا ہوا ہے اور اگر نہیں تو کوئی درد دل سے سنانے والا موجود ہے۔عاقبت اندیشی کی عقل دی ہے مگر باوجود اس قدر اسباب اور سہولتوں کے میسر آجانے پر بھی اگر اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کی فکر نہیں کرتا اور منافع اٹھانے کی سعی میں نہیں لگتا تو اس سے بڑھ کر بد قسمت کون ہو سکتا ہے؟ مَوَاقِيْتُ لِلنَّاسِ کیا عجیب وقت بنایا ہے تمہارے فائدہ کے لئے اور نفع اٹھانے کا بہت بڑا موقع دیا ہے اور اس لئے بھی کہ تم حج کرو۔یاد رکھو کہ حج اللہ کی سنن میں سے ہے۔یہ ایک سچی بات ہے کہ جہاں بدکاریاں کثرت سے ہوں وہاں غضب الہی نازل ہوتا ہے اور جہاں عظمت اور ذکر الہی ہو وہاں فیضان الہی کثرت سے نازل ہوتا ہے۔قوی روایات سے متفقہ یہ شہادت ملتی ہے کہ بیت اللہ کا وجود تو بہت بڑے زمانہ سے ہے۔لیکن حضرت ابو الملت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ سے جس کی تاریخ صحیح موجود ہے اَبَا عَنْ جَدٍ قوموں کا مرکز اور جائے تعظیم چلا آیا ہے اور پتہ ملتا ہے کہ رات دن میں کوئی ایسا وقت بیت اللہ میں نہیں آتا کہ وہاں اللہ تعالیٰ کی عظمت و جبروت کے اور ا د نہ پڑھے جاتے ہوں۔مکہ معظمہ میں اللہ تعالیٰ کی ہستی اور اس کی صفات کا زندہ اور بین ثبوت موجود ہے۔چنانچہ قرآن شریف میں آیا ہے جَعَلَ اللهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِلنَّاسِ (المائدة:٨) یعنی اس الی گھر کو معزز گھر بنایا۔اس کو لوگوں کے قیام اور نظام کا محل بنایا اور قربانیوں کو مقرر کیا کہ تم کو سمجھ آجائے کہ خدا ہے اور وہ علیم و خبیر خدا ہے کیونکہ جس طرح اس نے فرمایا ہے اسی طرح پورا ہوا۔میں نے ایک دہریہ کے سامنے اس حجت کو پیش کیا وہ ہکا بکا ہی تو رہ گیا۔لوگوں کے مکانات اور پھر مذہبی مقامات کو دیکھو کہ ذرا سے انقلاب سے ساری عظمت خاک میں مل جاتی ہے۔بابل کس عظمت و شان کا شہر تھا مگر آج اس کا کوئی پتہ بھی نہیں دے سکتا کہ وہ کہاں آباد تھا۔کار تھیج میں ہنی بال کا معبد پر اموں کا مندر جہاں سکندر عظیم الشان بادشاہ آکر نذر دیتا تھا اور اپنے آپ کو اس کا بیٹا منسوب کرتا تھا، آتش کدہ آذر، غرض بڑے بڑے مقدس مقامات تھے جن کا نام و نشان آج زمانہ میں موجود نہیں ہے۔مگر مکہ معظمہ کی نسبت خدائے علیم و حکیم نے اس وقت جبکہ وہ ایک وادی غیر ذی زرع تھا یہ فرمایا کہ وہاں دنیا کے ہر حصہ سے لوگ آئیں گے، وہاں قربانیاں ہوں گی اور خدا تعالیٰ کی عظمت و جبروت کا اظہار ہوتا رہے گا۔صدیاں اس پر گذر گئیں۔دنیا میں بڑے بڑے انقلاب ہوئے۔سلطنتوں کی سلطنتیں تباہ ہو کر نئی پیدا ہو گئیں مگر مکہ معظمہ کی نسبت جو پینگوئی کی گئی وہ آج بھی اسی شوکت اور جلال کے