خطبات نور — Page 55
55 یہی وہ دین ہے جس کی نسبت اللہ تعالیٰ نے اپنی رضامندی کا اظہار یہ کہہ کر فرمایا وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلامَ دِينًا (المائدة: ٤)۔اور اس اسلام پر عملدرآمد کرنے والے بچے مسلمان کو جس نتیجہ پر پہنچایا وہ دار السلام ہے۔پس کون ہے جو اس قدر سلامتیوں کو چھوڑے؟ وہی جو دنیا میں سب سے بڑھ کر بد نصیب ہو۔لیکن یاد رکھو کہ ہر ایک چیز کے لئے خدا تعالیٰ نے ایک راہ رکھی ہوئی ہے۔اسی راہ پر چل کر وہ اصل مقصد حاصل ہو سکتا ہے۔اسی طرح نیکیوں کے حاصل کرنے کے واسطے یہی ایک راہ ہے۔کوئی نیکی نیکی نہیں ہو سکتی جب تک اخلاص اور صواب اس کے ساتھ نہ ہو۔عام طور پر نیکیوں کے سمجھنے کے واسطے انسان کی عقل کفایت نہیں کر سکتی۔انسان اپنی عقل اور دانش سے اپنے جیسے انسان کی رضامندی معلوم نہیں کر سکتا پھر وراء الورٹی کی رضا کیونکر سمجھ لے۔اس کا ایک ہی طریق ہے کہ وہ اپنے بندوں میں سے ایک کو منتخب فرماتا ہے۔مگر انسان اپنی انکل بازی اور دانش سے اس منتخب شدہ بندہ کو نہیں سمجھ سکتا اس لئے کہ نبوت اور ماموریت ایک باریک اور لطیف راز ہوتا ہے جس کو دنیا میں منہمک انسان جھٹ پٹ نہیں سمجھ سکتا۔اگر یہ بات ہوتی کہ ہر شخص معانی کے دعوی کرنے ہی پر اس کی حقیقت کو سمجھ لیتا تو پھر مخالفوں کا وجود ہی نہ ہوتا۔چونکہ انسان اپنی عقل و دانش پر بھروسہ کرنا چاہتا ہے اور مجرد اسی کے فیصلہ پر راضی ہونا پسند کرتا ہے اس لئے اکثر اوقات وہ غلطیاں کرتا اور نقصان اٹھاتا ہے۔یہی انکل بازی تھی جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگوں سے یہ کہلوایا لولا نُزِلَ هَذَا الْقُرْانُ عَلَى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ (الزخرف (۳۲) میاں یہ قرآن شریف تو مکہ یا طائف کے کسی بڑے نمبردار پر نازل ہونا چاہئے تھا۔اپنی نگاہ و نظر میں وہ یہی رکھتے تھے کہ قرآن شریف اگر نازل ہو تو کسی نمبردار پر نازل ہو۔کیونکہ ان کی نگاہوں کی منتمئی تو وہ نمبرداری ہو سکتی تھی۔پس یہی حال ہے کہ انسان اپنی انکلوں سے کام لینا چاہتا ہے حالانکہ ایسا اس کو نہیں کرنا چاہئے۔بلکہ جس معاملہ میں اس کو کوئی علم اور معرفت نہیں ہے اس پر اس کو رائے زنی کرنے سے شرم کرنی چاہئے۔اس لئے پاک کتاب کا حکم ہے کہ لا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ (بنی اسرائیل:۳۷)۔ناواقف دنیا اپنی تدبیروں سے جو انتخاب کرنا چاہتی ہے وہ منظور نہیں ہو سکتا۔سچا انتخاب وہی ہے جس کو اللہ تعالی کرتا ہے۔چونکہ انسانی عقل پورے طور پر کام نہیں کرتی اور وہ فتویٰ نہیں دے سکتی کہ ہمارا کیا ہوا انتخاب صحیح اور مفید ثابت ہو گا یا ناقص۔اس لئے ماموریت کے لئے انتخاب اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے۔