خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 607 of 703

خطبات نور — Page 607

۱۹ ستمبر ۱۹۱۳ء 607 خطبه جمعه حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ نے وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلئِكَةِ اسْجُدُوا لِأَدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَى وَاسْتَكْبَرَ وَ كَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ (البقرۃ:۳۵) کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔بندے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک بڑے زیرک باریک بات کو پہنچنے والے۔دوسرے بالکل موٹی عقل کے اجڈ۔وہ ان باریک بینوں اور سخن شناسوں کے متبع ہوتے ہیں۔پھر یہ بھی دو قسم ہیں۔ایک تو وہ جو دین کی باریک دربار یک باتیں جانتے ہیں۔دوسرے وہ جو دنیا کی بار یک دربار یک باتیں جانتے ہیں۔یہ دنیا کے باریک بین انگریز ہیں۔کیا سلطنت کا طرز ہے۔کیا تجارت صنعت اور حرفت میں کمال ہے۔تم جس قدر بھی یہاں بیٹھے ہو کوئی تم میں ہے جس نے سال بھر میں انگریزوں کو کچھ نہ دیا ہو؟ ہرگز نہیں۔آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ یہی کہ ان کو کمانے کا علم آتا ہے اور انہیں دنیا میں کمال حاصل ہے۔دیکھو! سلطنت کی ہے تو کیسی زبردست۔پھر کسی اور فن کی طرف متوجہ ہوئے ہیں تو اس میں بھی حد ہی کر دی ہے۔