خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 608 of 703

خطبات نور — Page 608

608 میں ایک طبیب تھا۔اس حالت میں میں نے عجیب عجیب تماشے دیکھے ہیں۔ایک پنساری تھا جموں میں۔وہ بڑے اخلاص سے بڑی محبت سے میرے لئے پتے لے آیا۔میں تو اس وقت کتاب پڑھ رہا تھا۔نکما بیٹھنے کی میری عادت نہیں اور مطالعہ کے وقت مجھے بہت استغراق ہو جاتا ہے۔اس لئے میں بغیر دیکھنے کے وہ دانے کھاتا گیا حتی کہ چند دانے کھانے کے بعد آگ لگ گئی۔جب میں نے دیکھا کہ پستوں میں جمال گوٹے کے دانے مل گئے ہیں تو مجھے بڑی تکلیف ہوئی۔اس پنساری کو میں نے بلایا۔وہ گھبرا گیا اور منت سماجت کرنے لگا۔میں نے کہا۔تسلی رکھ ، تجھے گرفتار نہیں کرواتا۔مگر یہ سب نتیجہ غفلت کا ہے۔ہمارے ہاں کوئی علم نہیں جس سے یہ معلوم ہو کہ فلاں دوائی، فلاں دوائی کے ساتھ ملا کر نہ رکھنی چاہئے بلکہ نزدیک بھی نہیں لے جانی چاہیے۔مثلا مینگ اور افیون بینگ اور مشک اکٹھی ہوں تو دونوں کا ستیاناس ہو جاتا ہے۔سرکہ اور شہد بھی ایک دوسرے کے پاس نہیں ہونے چاہئیں۔مگر کیا کیا جائے۔ہمارے ملک میں یہ علم نہیں، نہ کوئی پڑھتا ہے۔جب حالت یہ ہو تو لوگ خاک ہماری خدمت کریں۔اب دیکھو انگریزوں میں دواؤں کا کیسا انتظام ہے۔ہر قسم کی دواؤں کے لئے مختلف رنگ کی شیشیاں ہیں۔کسی کا بندھن کانچ کا ہے، کسی کا لکڑی کا۔میں نے ایک دوائی منگوائی جو ربڑ کی شیشی میں تھی۔میں نے تعجب کیا۔ایک شخص نے مجھے کہا اگر آپ اسے کانچ یا چینی کی شیشی میں رکھیں تو سوراخ کر کے نکل جائے گی۔پھر شیشیوں کے اوپر سرخ لیبل لگاتے ہیں اور کالے حرفوں سے لکھتے ہیں۔زہر ہسپتال میں الگ رکھنے کا حکم ہے جس کی چابی آفیسر کے پاس رکھنے کا حکم ہے۔دیکھو کیسی احتیاط ہے۔اب ان اصفیٰ و اعلیٰ دواؤں کو چھوڑ کر کوئی ہماری دوائیں کیوں لے۔میں نے سنگ بصری، گاؤ دنتی کافور ، بھیم سینی۔ان دواؤں کو جب منگوایا نئی ہی نکلیں۔بڑے بڑے طبیبوں سے میں نے کہا۔وہ کہتے ہیں کون تحقیقات کرے اور اتنا روپیہ کون خرچ کرے؟ میری غرض اس تمام بیان سے یہ ہے کہ دنیا میں بڑے بڑے باریک علم ہیں۔جو ان علوم کو حاصل کرتے ہیں وہ مرجع خلائق ہوتے ہیں۔اسی طرح دین کے باریک علوم ہیں جو نبیوں کو آتے ہیں۔انبیاء کے بڑے بڑے معجزے ہوئے۔پہلی قوموں کے نبیوں کو ایسے معجزے دیئے گئے جن کو موٹی عقل والے سمجھ سکیں۔پھر ہمارے بادشاہ کو سب کچھ دیا جس کا بھاری معجزہ قرآن ہے۔یہ ایسا معجزہ ہے کہ جس قدر کسی کا بار یک فہم ہو اس سے نفع اٹھائے اور پھر موٹی عقل والا بھی برابر فائدہ اٹھا سکتا ہے۔موسیٰ کے سانپ پر تو آجکل شبہ کرتے ہیں کہ وہ کس طرح بن گیا ؟ مگر ہماری سرکار کا معجزہ ایسا ہے کہ ہر زمانے میں اس کا معارضہ کسی سے نہیں ہو سکتا۔