خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 606 of 703

خطبات نور — Page 606

606 اور صراط مستقیم پر ہے۔اب ان میں سے وہی پسند ہو گا جو مولیٰ کا خدمت گزار ہو گا۔میں تم سے زیادہ علم رکھتا ہوں اور خوب جانتا ہوں کہ رسالت کے بار اٹھانے کے قابل کون ہے۔الله اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ (الانعام: ۱۳۵)۔تم علم میں اور ہر امر میں ہمارے محتاج ہو۔لَا يُسْتَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْتَلُونَ (الانبیاء:۲۳) تمہارا کوئی حق نہیں کہ ہمارے کاموں پر نکتہ گیری کرو۔کیونکہ تمہیں علم نہیں اور مجھے علم ہے۔اس کا ثبوت بھی لے لو۔ہم آدم کو چند اسماء سکھا دیتے ہیں تم کو نہیں سکھاتے۔دیکھیں کہ بغیر ہمارے بتانے اور سکھانے کے تم بھی وہ اسماء بتا سکو۔فرشتوں نے عرض کیا۔بیشک ہمیں کوئی ذاتی علم نہیں۔علم وہی ہے جو آپ کسی کو بخشیں۔معلوم ہوتا ہے ملائکۃ اللہ جو ہیں ان کو اپنی جماعت کے بھی اسماء معلوم نہ تھے۔جب گھر کے ممبروں کی خبر نہیں تو دنیا کے کاموں میں دخل کیا دے سکیں گے۔تم سب لوگ اپنے اندر مطالعہ کرو۔میں تو عالم الغیب نہیں۔تم سوچو۔کیا تم میں سے کبھی کسی نے جھوٹ بولا ہے یا نہیں۔کسی کو چکمہ دیا ہے یا نہیں۔کسی نے کسی سے فریب یا دھو کہ کیا ہے یا نہیں۔بد معاملگی کی ہے یا نہیں۔بد نظری کی ہے یا نہیں کی۔پھر خدا تو علیم و حکیم ہے۔کیا وجہ ہے اس نے تو تم سے کہا۔يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ (النور: ٣) كُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ (التوبة: وَلَعْنَتُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ (ال عمران:٣) لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ۔(البقرة: ۱۸۹) تم نے ان احکام کی کہاں تک تعمیل کی جو دوسروں کو کہتے ہو۔تو کار زمیں کے نکو ساختی با آسماں پرداختی نیز اپنی حالت کو مطالعہ کرو۔پچھلی حالت پر غور کر کے دیکھو۔جہاں پر اعتراض کرتے ہو پہلے اپنے آپ کی تو خبر لے لو اور اصلاح کرو۔میں تم سب کو السلام علیکم کہتا ہوں۔عید کی نماز کے بعد میری ایسی حالت ہو گئی کہ اب تک مسجد میں نماز کے لئے نہیں آسکا۔اب بھی میں جانتا ہوں کہ میری کیا حالت ہے۔اپنے نفسوں کی اصلاح کرو۔اپنے نامہ اعمال کو سیاہ ہونے سے بچاؤ۔دوسرے کو جب کہو کہ پہلے خود الفضل جلد انمبر ۱۴-۷۰۰ار ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۱۵) سیدھے ہو لو۔⭑-⭑-⭑-⭑