خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 605 of 703

خطبات نور — Page 605

605 سو کسی قسم کا خلیفہ ہو اس کا بنانا جناب الہی کا کام ہے۔آدم کو بنایا تو اس نے۔داؤد کو بنایا تو اس نے۔ہم سب کو بنایا تو اس نے۔پھر حضرت نبی کریم کے جانشینوں کو ارشاد ہوتا ہے وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ لَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمَنَّا (النور %٥) - جو مومنوں میں سے خلیفے ہوتے ہیں ان کو بھی اللہ ہی بناتا ہے۔ان کو خوف پیش آتا ہے مگر خدا تعالیٰ ان کو ممکنت عطا کرتا ہے۔جب کسی قسم کی بدامنی پھیلے تو اللہ ان کے لئے امن کی راہیں نکال دیتا ہے۔جو ان کا منکر ہو اس کی پہچان یہ ہے کہ اعمال صالحہ میں کمی ہوتی چلی جاتی ہے اور وہ دینی کاموں سے رہ جاتا ہے۔جناب الہی نے ملائکہ کو فرمایا کہ میں خلیفہ بناؤں گا کیونکہ وہ اپنے مقربین کو کسی آئندہ معاملہ کی نسبت جب چاہے اطلاع دیتا ہے۔ان کو اعتراض سوجھا جو ادب سے پیش کیا۔ایک دفعہ ایک شخص نے مجھے کہا۔حضرت صاحب نے دعوئی تو کیا ہے مگر بڑے بڑے علماء اس پر اعتراض کرتے ہیں۔میں نے کہا وہ خواہ کتنے بڑے ہیں مگر فرشتوں سے بڑھ کر تو نہیں۔اعتراض تو انہوں نے بھی کر دیا اور کہا اَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ تُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ (البقرة :(۳) کیا تو اسے خلیفہ بناتا ہے جو بڑا فساد ڈالے اور خونریزی کرے؟ یہ اعتراض ہے ، مگر مولی ! ہم تجھے پاک ذات سمجھتے ہیں۔تیری حمد کرتے ہیں۔تیری تقدیس کرتے ہیں۔خدا کا انتخاب صحیح تھا مگر خدا کے انتخاب کو ان کی عقلیں کب پاسکتی تھیں۔حضرت نبی کریم کے وقت بھی جھگڑا ہوا۔مَا كَانَ لِي مِنْ عِلْمٍ بِالْمَلَا الْأَعْلَى إِذْ يَخْتَصِمُونَ (ص:۷۰)۔ادھر مکہ والوں نے کہا لَوْ لَا نُزِلَ هَذَا الْقُرْانُ عَلَى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيم (الزخرف:۳۲) یہ دستار فضیلت کسی بڑے نمبردار کے سر پر بندھتی۔اللہ نے اس کے رد میں ایک دلیل دی ہے۔اَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمُنَا بَيْنَهُمْ مَعِيْشَتَهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيا - (الزخرف:۳۳) ان امیروں کو امیر کس نے بنایا؟ عظماء کو عظیم کس نے کیا؟ آخر کہو گے خدا نے۔پس اسی طرح یہ کام بھی خدا نے اپنی مرضی و مصلحت سے کیا۔پھر فرمایا۔دو قسم کے غلام ہوتے ہیں۔اَحَدُهُمَا أَبْكَمُ لَا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ وَهُوَ كَلٌّ عَلَى مَوْلَاهُ أَيْنَمَا يُوَجهُهُ لَا يَأْتِ بِخَيْرٍ (النحل:۷۷) گونگا کسی چیز پر قادر نہیں۔جہاں جائے کوئی خیر نہ لائے۔روم وہ جو يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَهُوَ عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ (النحل ۷۷) عدل پر چلتا۔عدل کا حکم کرتا ہے