خطبات نور — Page 573
573 مقدمہ کی تفتیش میں نے محنت سے کی اور بعض اوقات اپنی جان کو خطرے میں ڈالا۔غرض وہ ساری کارگزاری اس غریب کی اپنی کر کے دکھائی اور انعام خود ہضم کر لیا بلکہ ترقی کی درخواست دی۔دیکھو ادھر عدل کے لئے کتنا زور دیا کہ میں نے ایسی محنت کی، مجھے ترقی ملے، وہ انعام ملے اور دوسری طرف کیسی بے انصافی کی کہ اپنے ماتحت کا حق خود ضبط کر لیا۔رات دن میں یہ حال دیکھتا ہوں۔ایک شخص کے گھر میں بو آتی ہے۔وہ اسے نہایت حقیر سمجھتا ہے مگر اپنی لڑکی کے لئے ہر گز یہ گوارا نہیں کرتا کہ کوئی اسے میلی آنکھ سے بھی دیکھے۔پہریداروں کو دیکھا گرم بستر گھر میں موجود سردی کے موسم میں سرد ہوا کی پروانہ کر کے وہ آدھی رات کو چند ملکوں کی خاطر خبردار! خبردار! پکارتا پھرتا ہے مگر جن کو خدا نے ہزاروں روپے دیئے اور عیش و عشرت کے سامان وہ اتنا نہیں کر سکتے کہ پچھلی رات اٹھ کر تجد تو در کنار استغفار ہی کریں۔یہ عدل نہیں۔پس میرے عزیزو! تم خدا کے معاملہ میں، مخلوق کے معاملہ میں عدل سے کام لو۔ایک طرف جناب الہی ہیں، ایک طرف محمد رسول اللہ ہیں۔محمد رسول اللہ کی دعائیں اپنے حق میں سنو۔آپ کا چال و چلن سنو پھر یہ کہ آپ نے ہمارے لئے کیا کیا۔اپنے تئیں جان جوکھوں میں ڈالا۔ایسے مخلص مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری اپنے دوست کی فرمانبرداری کے برابر بھی نہ کرو تو کس قدر افسوس کی بات ہے۔بعض تاجروں کو میں نے دیکھا ہے۔وہ رستے میں چلتے ہیں اور حساب کرتے جاتے ہیں۔معلوم ہوتا ہے اپنے فکر میں مست ہیں اور یہ خیال نہیں کہ جس نے یہ تمام نعمتیں دیں اس کا شکر بھی واجب ہے۔دیکھو! اس وقت میں کھڑا ہوں اور محض خدا کے فضل سے کھڑا ہوں۔پرسوں میری ایسی حالت تھی کہ میں سمجھا کہ میرا آخری دم ہے۔اس کا فضل ہوا جو مجھے صحت ہوئی۔اس نے مجھے عقل و فراست دی۔اپنی کتاب کا علم دیا۔رسولوں کی کتابوں کا قسم دیا۔اگر یہ انعام نہ ہوتے تو جیسے اور بھنگی ہمارے شہر کے ہیں میں بھی ہو سکتا تھا۔میں تمہیں کھول کر سناتا ہوں کہ عدل کرو۔روپیہ جس آنکھ سے لائے ہو اسی سے ادا کرو۔مزدور کو مزدوری پسینہ سوکھنے سے پہلے دو۔خدا کے ساتھ معاملہ صاف رکھو۔پھر اس سے بڑھ کر حکم دیتا ہے کہ عدل سے بڑھ کر احسان کرو۔پھر فرماتا ہے احسان میں تو پھر احسان کا خیال آجاتا ہے۔تم دوسروں سے ایسا سلوک کرو جیسے اپنے بچوں کے ساتھ بدوں خیال کسی بدلے کے کرتے ہیں۔میرا منشا تمام رکوع کا تھا مگر ضعف غالب ہے اس لئے بیٹھتا ہوں۔