خطبات نور — Page 572
ڈ امہات اور 572 ساتھ معاملہ پیش آئے پھر عدل کوئی نہیں۔کسی کا بھائی بادا یا بہن یا ماں یا بیٹی مقدمے میں گرفتار ہو جائے تو وہ کہتا ہے اس سے بڑھ کر میرا کون ہے۔ان کے چھڑانے کی کوشش میں اگر میری جان بھی جائے تو کوئی بڑی بات نہیں۔اس وقت بعض لوگ جھوٹی گواہی ، جعلسازی، رشوت دینے تک تیار ہو جاتے ہیں۔گویا خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں کھڑے ہو کر یہ کام کرتے ہیں۔مگر سوچو جس نے ایسا کیا اس نے عدل نہیں کیا۔کیونکہ وہ ہمارا رحمن ہمارا رحیم ہمارا مالک ہمارا رازق ہمار استار العیوب ہے۔اس کی صفات کو چھوڑ کر کہتا ہے کہ بس جو کچھ ہے میرا یہی بیٹا ہے یا یہ بیوی ہے یا ماں ہے۔دیکھو وہی عدل جو بڑا پسند تھا اس وقت بھلا دیا۔یہاں دو لڑکوں میں ایک گیند کا مقدمہ ہوا۔دونوں مجھے عزیز تھے۔اب میں حیران ہوا کہ کس کو دلاؤں؟ میرے پاس پیسے ہوتے تو میں مدعی کو گیند لے دیتا مگر قدرت کے عجائبات ہیں کہ بعض اوقات نہیں ہوتے۔ایک نے گواہی دی کہ یہ گیند اس لڑکے کا ہے کیونکہ اس کے لئے ایک شخص نے میرے سامنے امرتسر کے اسٹیشن سے خریدا تھا۔میں نے کہا سچ کہتے ہو۔اس نے کہا مجھے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ہے؟ تب میں نے گیند دوسرے لڑکے کو دلایا۔تھوڑے دن گزرے تو گواہی دینے والا اس لڑکے کے ساتھ غالبا لڑ پڑا تو یہ راز ظاہر ہوا کہ اس نے جھوٹی گواہی دی تھی۔دیکھو اس نے عدل نہ کیا اور ظاہرداری کے لیے خدا کو ناراض کر دیا۔میں نے اس لڑکے کو دیکھا ہے۔بڑا خوبصورت تھا۔جان نکل گئی۔بس یہ انجام ہوتا ہے۔یاد رکھو ہر بدی کا انجام برا ہوتا ہے۔جناب الہی کا حکم مان لو۔فرماتے ہیں۔عدل کرو۔ہم تمہارے خالق ہم تمہارے مالک، رحمن، رحیم، تمہارے ستار، تمہارے غفار ہماری بات ماننے میں مضائقہ اور اپنے کسی پیارے کی بات ہو تو جان تک حاضر۔یہ عدل نہیں۔اسی طرح میں دیکھتا ہوں کہ ہر افسر اپنے ماتحت سے چاہتا ہے کہ جان توڑ کر خدمت کرے۔میں جو تنخواہ دیتا ہوں تو یہ روپیہ ضائع نہ کرے۔لیکن آپ جس کا نوکر ہے اس کی نوکری میں اگر جان توڑ کر محنت نہیں کرتا تو یہ عدل نہیں۔اس وقت ایک بات یاد آگئی۔کسی امیر کی چوری ہو گئی اور اس چوری کے برآمد کرانے والے کے لئے بڑا انعام مشتہر ہوا۔افسر پولیس نے اپنے ماتحتوں کو بلایا اور کہا۔لو بھئی اب تو عزت کا معاملہ ہے۔ایک میرا رشتہ دار بھی اس کے ماتحت تھا۔اس نے مجھے بتایا کہ میں نے ایسی شدید محنت کی کہ مال برآمد کرالیا۔مجرموں سے اقرار بھی کروالیا۔اس آفیسر نے سولہ روپے جیب سے نکال کر دیئے کہ لے بیٹا! تم یہ لو۔وہ انعام تو خدا جانے کب ملے گا۔پھر ایک مفصل رپورٹ لکھی جس میں دکھایا کہ کس طرح اس