خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 574 of 703

خطبات نور — Page 574

574 خطبہ ثانیہ فرمایا:۔دعا کے سوا مجھے کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی جو بدیوں سے بچائے کامیابی دکھائے۔ابھی ایک لڑکا تھا۔اس کو ابھی ہوش نہ تھا کہ میرے پاس لایا گیا۔بڑے بڑے رنگوں میں اس کے ساتھ میں نے سلوک کیا۔مجھے بڑے بڑے خیال تھے۔خدا اسے یہاں تک پہنچاوے۔مگر آخر اسے عیسائیوں کا گھر پسند آیا۔دل جو ہوتے ہیں ان کا نام قلب اسی لیے رکھا ہے کہ بدلتے رہتے ہیں۔اس واسطے میری عرض ہے کہ تم دعاؤں میں لگے رہو۔تمہارے بھلے کے لئے کہتا ہوں ورنہ میں تو تمہارے سلاموں، تمہارے مجلس میں تعظیم کے لیے اٹھنے کی خواہش نہیں رکھتا اور نہ یہ خواہش کہ مجھے کچھ دو۔اگر میں تم سے اس بات کا امیدوار ہوں تو میرے جیسا کافر کوئی نہیں۔اس بڑھاپے تک جس نے دیا اور امید سے زیادہ دیا وہ کیا اب چند روز کے لئے مجھے تمہارا محتاج کرے گا؟ سنو ! بچے کی شادی تھی۔میری بیوی نے کہا۔کچھ جمع ہے تو خیر ورنہ نام نہ لو۔میں نے کہا خدا کے گھر میں سبھی کچھ ہے۔آخر بہت جھگڑے کے بعد اس نے کہا اچھا پھر میں سامان بناتی ہوں۔میں نے کہا میں تمہیں بھی خدا نہیں بناتا۔میرے مولا کی قدرت دیکھو کہ شام تک جس قدر سامان کی ضرورت تھی مہیا ہو گیا۔یہ میں نے کیوں سنایا تا تمہیں حرص پیدا ہو اور تم بھی اپنے مولا پر بھروسہ کرو۔پھر میری بیوی نے کہا۔عبد الحی کا مکان الگ بناتا ہے تو اس کے لئے بھی خدا نے ہی سامان کر دیا۔ان فضلوں کے لیے عدل کا اقتضا ہے کہ میں سارا خدا کا ہی ہو جاؤں۔قومی بھی اسی کے عزت و آبرو بھی اسی کی۔میری پہلی شادی جہاں ہوئی وہ مفتی ہمارے شہر کے بڑے معظم و مکرم تھے۔ایک دن میری بیوی کو کسی نے کہا۔"چہارے دی اٹ و ہنی وچہ جا لگی ایں مگر کہنے والے نے جھوٹ کہا۔اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بڑے فضل کئے۔پھر ہمیں ایسے موقع پر ناطہ دیا کہ تم تعجب کرو۔جموں کا رئیس بیمار تھا۔اس نے بہت دوائیں کیں۔کچھ فائدہ نہ ہوا تو فقرا کی طرف متوجہ ہوا۔جب ہند و فقراء سے فائدہ نہ ہوا تو مسلمان فقرا کی طرف توجہ کی اور ان سب فقرا کو بڑا روپیہ دیا۔ایک میرا دوست جو اس روپے کے خرچ کا آفیسر تھا اس نے ذکر کیا کہ تین لاکھ تو خرچ ہو چکا۔اب ایک فقیر سنا ہے جسے بلانے کے لئے آدمی گیا اور اس کے لئے اتنے ہزار روپے تھے مگر اس کا خط آیا۔اس میں لکھا تھا میرا کام تو دعا کرنا ہے۔دعا جیسی لدھیانہ میں و سکتی ہے ویسی کشمیر میں۔دونوں جگہ کا خدا ایک ہے۔وہاں آنے کی ضرورت نہیں۔ہاں ایک بات ہے۔اگر آپ کا رعایا سے اچھا سلوک نہیں تو اس کے افراد بد دعائیں دے رہے ہوں گے تو میں ایک دعا ہو