خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 49 of 703

خطبات نور — Page 49

49 دی ہے کہ اَلا يَرْجِعُ إِلَيْهِمْ قَولاً ( یعنی تم دیکھتے ہو کہ تمہاری بات کا جواب نہیں دیتا، یہ تفہیم ہوئی کہ جو خدا جواب نہ دے وہ بچھڑے کا سا خدا ہوا۔ہاں یہ بھی سچ ہے کہ سارے جگ سے بات کرنا کبھی نہیں ہوا۔انسان اپنے اندر وہ خوبیاں اور خواص پیدا کرے جو کلام الہی کے لئے ضروری ہیں پھر جواب ملے گا۔دوسری شرط ایمان کی اخلاص ہے یعنی خدا ہی کے لئے ہو۔اور تیسری شرط صواب ہے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے موافق عملدرآمد ہو۔کوئی عمل قبولیت کا درجہ حاصل نہیں کرتا جب تک اخلاص اور صواب سے نہ ہو۔پھر ایمان بالملائکہ ہے۔ایمان بالملائکہ ایسی چیز ہے جس کی طرف سے تساہل کرکے نیکی سے محروم رہ جاتے ہیں۔آج کل کے لوگ سمجھتے ہیں اور یقین کرتے ہیں کہ بدوں سبب کے فعل سرزد نہیں ہوتا۔پس بیٹھے بیٹھے جو انسان کو دفعتاً نیکی کا خیال آتا ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ ایک لمتہ الملک انسان کے ساتھ ہے۔اس کے ذریعہ نیک خیال پیدا ہوتے ہیں اور شیطانی تعلقات سے برے خیالات اٹھتے ہیں۔پس انسان کو لازم ہے کہ ہر نیکی کی تحریک پر فی الفور نیکی کرے۔ایسا نہ ہو يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهِ (الانفال: ۳۵) کا مصداق ہو جاوے۔ایمان بالملائکہ کا یہی فائدہ ہے کہ نیکی سے تغافل نہ کرے۔پھر اللہ کی کتابوں، اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔اس کو دستور العمل بناؤ۔افسوس ہے کہ مسلمان اس کو کتاب اللہ جان کر بھی دستور العمل بنانے میں مضائقہ کرتے ہیں اور السُّئَةُ فَاضِيَةٌ عَلَى كِتَابِ اللہ کا قولی دیتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی قرآن کریم کو کس ادب اور عظمت کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ساری حدیث کی کتابیں دیکھو۔جن مسائل پر قرآن کریم نے مفصل بحث فرمائی ہے اور ان کے دلائل دیئے مثلاً ہستی باری تعالیٰ ضرورت نبوت مسئلہ تقدیر وغیرہ ان پر احادیث میں بحث نہیں کی گئی۔پھر تقدیر کے مسئلہ پر ایمان لاوے کہ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ فاسق کو کوئی عمدہ نتیجہ ملے۔پھر جزاء و سزا پر ایمان لاوے۔اس کے بعد دوسری بات عَمِلُوا الصلحت ہے۔اس کا عام اصول ہے کہ ہر سنوار کا کام کرے اور اس کے معلوم کرنے کے واسطے قرآن کریم ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا عملدرآمد معیار ہے۔پھر انسان سوچ لے کہ امت محمدیہ کو كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ (ال عمران) قرار دیا ہے۔پس جس سے آٹھ پر میں کوئی بھلائی بھی نہ ہو وہ اپنی حالت پر غور کرے۔ایسی ہی وصیت الحق ضروری ہے۔گونگا شیطان بننا اچھا نہیں۔مقابلہ میں مشکلات پیش آتی ہیں۔پھر کوشش کرے اور صبر و استقلال سے کام