خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 48 of 703

خطبات نور — Page 48

48 فیصلہ۔اب اگر اپنے اور قوم کے فیصلہ کی کچھ پروانہ کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے نیچے گردن رکھ دیتا ہے تو یقینا مومن ہے۔میں دیکھتا ہوں شادیاں ہوتی ہیں تو بڑی قوم کی تلاش ہوتی ہے۔تقویٰ کی تلاش نہیں کی جاتی۔بدمعاش، آوارہ مزاج شریر ہو ، کچھ پرواہ نہیں مگر ہڈی پسلی اور خون کسی بڑی قوم کا ہو۔افسوس! صد افسوس !! پھر شادی کی دعوتوں میں مسکینوں کو دھکے دے کر باہر نکالا جاتا ہے لیکن شریر النفس اور بے حیا لوگوں کو بلا بلا کر بٹھایا جاتا ہے۔جن لوگوں کے اموال کا تلف کرنا غضب الہی کا موجب ہے نہایت بیباکی اور شوخی کے ساتھ اس کو تباہ کیا جاتا ہے۔دوسروں کا مال ناجائز طور پر کھانے میں بیباک ہیں۔مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہو کر احکام الہی کو سنتے ہیں۔مگر اپنی جماعت یا سوسائٹی کے کسی معمول پر عمل کے خلاف دیکھ کر اس کے لینے میں مضائقہ کرتے ہیں۔میرا تو یقین ہے کہ یہ لوگ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں بھی ہوتے تو آپ کی باتوں کے ماننے میں اسی طرح مضائقہ کرتے جیسا آج امام کی اتباع سے مضائقہ کرتے ہیں۔غرض ایمان موقوف ہے خدا کی ذات میں اسماء میں یاد میں۔عظمت و جبروت میں دوسرے کو شریک نہ کرے خواہ فرشتہ ہو یا رسول ہو ، نبی ہو یا ولی ہو۔کیسا افسوس آتا ہے کہ موحد لوگ توحید کا اقرار کر کے پھر مسیح کو خَالِقِ كَخَلْقِ اللهِ اور مُحْيِي كَاحْيَاءِ اللہ مانتے ہیں! کیا یہی توحید ہے۔اور یہ کہنا کہ خدا کے اذن سے کرتے تھے ایک دھوکا ہے۔اگر کوئی کام اذن الہی سے بھی کیا جاوے تو کیا وہ خدا کی طرح کا کام ہو جاتا اور کرنے والے کو خدا کا شریک بنا دیتا ہے۔خَالِقُ كُلِّ شَيْی اللہ تعالیٰ کی ہی ذات ہے۔ایک شخص امام علیہ السلام کے پاس آیا۔جب اس سے پوچھا گیا کہ مسیح اور خدا تعالیٰ کی چمگادڑوں میں کچھ فرق بھی ہے تو اس نے کہا کہ رل مل گئے ہیں۔ایمان کی پہلی شرط ہے ایمان باللہ کہ کسی حمد فعل، عبادت، حسن و احسان الہی میں کسی غیر کو شریک نہ کرے۔مجھے ان لوگوں پر تعجب آیا کرتا ہے جو اپنی محر میت کے باعث خدا تعالیٰ سے ہمکلام ہونے سے محروم ہیں۔کہا کرتے ہیں کہ الہی محبت نہیں ہے وہ اَطِيْعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ (التغابن:۱۳) کے کیا معنے کرتے ہیں؟ قرآن کریم تو ہمیں اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے ذریعہ پہنچا ہے۔اَطِيْعُوا اللَّهَ کا موقع ہی کب ملتا ہے۔رسول کے ذریعہ ماننا اس کے بھی بعد ہے۔خدا تعالیٰ کی قدر کرو ایسا نہ ہو کہ مَا قَدَرُوا اللهَ (الانعام:۹۲) کے نیچے آجاؤ۔پس جبکہ اللہ تعالیٰ کلام کرتا ہے اور ہمیشہ کرتا رہا پھر کیا وجہ ہے کہ وہ آج چپ ہو گیا؟ مجھے اس آیت پر کہ موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں جب قوم نے بچھڑے کو خدا بنایا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ دلیل