خطبات نور — Page 501
501 بیہودہ بخشیں لے بیتے ہیں جن سے سوائے اس کے کچھ فائدہ نہیں کہ تفرقہ بڑھے۔میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تفرقہ ڈالنے اور تفرقہ بڑھانے والی باتیں چھوڑ دیں۔ایسی لغو بحثوں سے جن سے نہ دین کا فائدہ نہ دنیا کا منہ موڑ لو اور سب سے مل کر وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيْعًا ان (۱۰۴) حبل اللہ ، قرآن مجید کو محکم پکڑو۔دیکھو! لڑکوں میں ایک رسے کا کھیل ہے۔اگر ایک طرف کے لوگ اور باتوں میں لگ جاویں تو وہ رسے میں کس طرح جیت سکتے ہیں۔اسی طرح اگر تم اور بحثوں میں لگ جاؤ گے تو قرآن مجید تمہارے ہاتھوں سے جاتا رہے گا۔بعض آدمی ایسی باتوں میں اپنا وقت ضائع کرتے ہیں کہ مثلاً مسیح کا باپ تھا یا نہ تھا۔ایسی بحثوں سے کوئی دینی دنیوی فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا۔ایسا ہی بعض لوگ صدر انجمن احمدیہ کے انتظامات پر اعتراض کرنے کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔سو تم سن لو کہ میرے اور صد را مجمن کے تعلقات دوستانہ اور پیری مریدی کے رنگ میں ہیں۔میں ان کا پیر ہوں اور وہ میرے مرید ہیں۔وہ محبت اور اخلاص کے ساتھ میرے فرمانبردار ہیں۔ہم ان پر حکمران ہیں، جو چاہیں منوا لیتے ہیں۔جو لوگ اس بارے میں کچھ بحث کرتے ہیں وہ اپنا وقت ضائع کرتے ہیں۔انہیں چاہئے کہ ان باتوں کو چھوڑ دیں کیونکہ ان کے واسطے یہ بحث فائدہ مند نہیں بلکہ نقصان دینے والی ہے۔کیا انجمن تمہاری مرید ہے اور کیا اس تدبیر سے وہ تمہارے فرمانبردار ہو جاویں گے؟ نیز سن رکھو۔دین اسلام میں بہت توسیع ہے۔صحابہ کرام " آمین بالجہر بھی کہہ لیتے۔آمین بالاخفاء بھی کر لیتے۔سینہ پر بھی ہاتھ باندھتے اور ناف کے نیچے بھی۔بسم اللہ جرا" بھی پڑھتے اور سرا" بھی اور بعض تابعین ہاتھ چھوڑ کر بھی نماز پڑھتے رہے۔ایسے اختلافات پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں۔صرف ان مباحث سے بے ہودہ تفرقہ پیدا ہوتا ہے۔دل اللہ سے ڈرنے والا مانگو۔بہت بولنے کی عادت کم کرو کہ بہت بولنے سے دل مرجاتا ہے۔اور سب کے سب مل کر اتحاد و اتفاق سے کام کرو۔خدا کا شکر کرو کہ اللہ تعالیٰ کا ایک بندہ آیا اور اس نے مختلف مذاہب والوں کو اختلاف کی آگ سے نکال کر بھائی بھائی بنادیا۔( بدر جلد ۱۰ نمبر ۳۵-۲۹۰۰ / جون ۱۹۱۱ء صفحه ۲) ⭑-⭑-⭑-⭑