خطبات نور — Page 485
۱۸ نومبر ۱۹۱۰ء 485 خطبه جمعه حضرت امیر المومنین ایده الله تعالی نے إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْنِي وَ يَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ (النحل») پر تقریر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ عدل ایسی ضروری چیز ہے کہ شیعہ نے بھی باوجود اللہ کی تمام صفات سے بے پرواہی کرنے کے اسے ارکان اربعہ (توحید عدل نبوت امامت میں شمار کیا ہے۔عدل کیسا اچھا ہے، اس کا اندازہ شاید تم لوگ نہ کر سکو کیونکہ تم میں سے کم ہیں جنہوں نے وہ زمانہ دیکھا جب کہ حکام کو بھی ننگ و ناموس کا خیال نہ تھا۔رعیت کے کسی فرد کو یہ معلوم نہ تھا کہ میں کس چیز کا مستحق ہوں اور بادشاہ کس کا؟ باپ کا بدلہ نہ صرف بیٹوں سے بلکہ ملک والوں سے بھی لیا جاتا تھا مگر اب امن کا راج ہے اور عدل ہو رہا ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ کا شکر چاہئے۔ہر شخص اپنے نفس پر غور کرے کہ وہ نہیں چاہتا کہ میرے بیٹے یا بیٹی کو کوئی دکھ دے یا ان کے ساتھ بے جا سختی کرے۔پس وہ آپ بھی کیوں کسی کے بیٹے یا بیٹی کو دکھ دے یا اکل مال بالباطل کرے یا کسی کی حق تلفی کا مرتکب ہو۔نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا۔لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ