خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 486 of 703

خطبات نور — Page 486

486 لأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ (بخاری کتاب الایمان) کہ مومن ہی نہیں ہو تا جب تک اپنے بھائی کے لئے بھی وہی پسند نہیں کرتا جو اپنے لئے کرتا ہے۔ہم اپنے نظام سے جیسا کام لینا چاہتے ہیں مناسب ہے کہ ہم بھی جس کے نوکر ہیں ویساری کام کریں۔میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے تمام تعلقات میں مخلوق سے ہوں یا خدا سے عدل مد نظر رکھو اور میری آرزو ہے کہ میں تم میں سے ایسی جماعت دیکھوں جو اللہ تعالیٰ کی محب ہو۔اللہ تعالیٰ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قبع ہو۔قرآن سمجھنے والی ہو۔میرے مولا نے مجھ پر بلا امتحان اور بغیر میری محنت کے بڑے بڑے فضل کئے ہیں اور بغیر میرے مانگنے کے بھی مجھے عجیب عجیب انعامات دیئے ہیں جن کو میں گن بھی نہیں سکتا۔وہ ہمیشہ میری ضرورتوں کا آپ ہی کفیل ہوا ہے۔وہ مجھے کھانا کھلاتا ہے اور آپ ہی کھلاتا ہے۔وہ مجھے کپڑا پہناتا ہے اور آپ ہی پہناتا ہے۔وہ مجھے آرام دیتا ہے اور آپ ہی آرام دیتا ہے۔اس نے مجھے بہت سے مکانات دیئے ، بیوی بچے دیئے ، مخلص اور کچے دوست دیئے۔اتنی کتابیں دیں اتنی کتابیں دیں کہ دوسرے کی عقل دیکھ کر ہی چکر کھا جائے۔پھر مطالعہ کے لئے وقت صحت، علم اور سامان دیا۔اب میری آرزو ہے اور میں اپنے مولیٰ پر بڑی بڑی امیدیں رکھتا ہوں کہ وہ یہ آرزو بھی پوری کرے گا کہ تم میں سے اللہ کی محبت رکھنے والے اللہ کے کلام سے پیار کرنے والے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے محبت رکھنے والے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کلام سے محبت رکھنے والے اللہ کے فرمانبردار اور اس کے خاتم النبیین کے بچے متبع ہوں اور تم میں سے ایک جماعت ہو جو قرآن مجید اور سنت نبوی پر چلنے والی ہو اور میں دنیا سے رخصت ہوں تو میری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور میرا دل ٹھنڈا ہو۔دیکھو ! میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا نہ تمہارے نذرونیاز کا محتاج ہوں۔میں تو اس بات کا امیدوار بھی نہیں کہ کوئی تم میں سے مجھے سلام کرے۔اگر چاہتا ہوں تو صرف یہی کہ تم اللہ کے فرمانبردار بن جاؤ۔اس کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قیع ہو کر دنیا کے تمام گوشوں میں بقدر اپنی طاقت و قسم کے امن و آشتی کے ساتھ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ پہنچاؤ۔( بدر جلد ۱۰ نمبر ۵ --- یکم دسمبر ۱۹۱۰ء صفحه ۱)