خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 440 of 703

خطبات نور — Page 440

440 نفاق تھا۔اللہ تعالیٰ نے میری دستگیری کی اور معا مجھے خیال آیا کہ جو إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (البقرہ:۵۷) اور اللهُمَّ أَجِرْنِي فِي مُصِيبَتِي (مسلم کتاب الجنائز) پڑھتا ہے ہم اس کی مصیبت کو راحت سے بدل دیتے ہیں۔انسان پر جو مصیبت آتی ہے کبھی گناہوں کا کفارہ ہو جاتی ہے۔اس لئے انسان شکر کرہے کہ قیامت کو مواخذہ نہ ہو گا۔دوم۔ممکن تھا اس سے بڑھ کر مصیبت میں گرفتار ہو تا۔سوم۔مالی نقصان کی بجائے ممکن تھا جانی نقصان ہو تا جو نا قابل برداشت ہے۔چہارم۔یہ بھی شکر کا مقام ہے کہ خود زندہ رہے کیونکہ خود زندہ نہیں تو پھر تمام مال و اسباب وغیرہ کی فکر لغو ہے۔یہ سب مضمون جب میرے دل میں آیا تو بڑے زور سے الحمد للہ پڑھا۔قرآن میں کہیں نہیں آیا کہ مومن کو خوف و حزن ہوتا ہے وہ تو لَا يَخَافُ وَلَا يَحْزَنُ ہوتا ہے۔زبان کے فرائض زبان کا سب سے بھاری فرض ہے۔(۱) کلمہ توحید پڑھنا۔(۲) نماز میں الحمد بھی فرض ہے۔تو گویا اتنا قرآن پڑھنا بھی فرض ہوا۔(۳) امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بھی زبان کا ایک رکن ہے۔اس کے محرمات ہیں۔غیبت، تحقیر، جھوٹ، افتراء۔اس زبان کے ذریعے عام تلاوت قرآن و تلاوت احادیث کرے اور عام طور پر جو معرفت کے خزانے اللہ و رسول کی کتابوں میں ہیں پوچھ کر یا بتا کر ان کی تہ تک پہنچے۔معمولی باتیں مباح ہیں۔پسندیدہ باتیں اپنی عام باتوں میں استحباب کا رنگ رکھتی ہیں۔کان کے فرائض لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ (الملك :) اگر ہم حق کے شنوا ہوتے تو دوزخ میں کیوں جاتے؟ اس سے ثابت ہوا کہ حق کا سنا فرض ہے اور غیبت کا سننا حرام ہے۔سماع کے متعلق صوفیاء میں بحث ہے۔میرے نزدیک سماع قرآن و حدیث ضروری ہے۔مگر ایک شیطانی سماع ہے کہ راگنی کی باریکیوں پر اطلاع ہو یہ ناجائز ہے۔