خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 441 of 703

خطبات نور — Page 441

ناک کے فرائض 441 ہمیں حکم ہے کہ جس پانی کی بو خراب ہو اس سے وضو نہ کریں۔اس واسطے پانی کا سونگھنا اس وقت فرض ہو گیا خصوصاً جب نجاست کا احتمال ہو۔عید کے دن عطر لگانا مستحبات میں داخل ہے۔ہاں اجنبی عورت کے کپڑوں اور بالوں کی خوشبو کا سونگھنا حرام ہے۔اسی طرح آنکھ اور دوسرے اعضاء کے فرائض ہیں۔خطبہ ثانیہ اذْكُرُوا اللهَ يَذْكُرُكُمْ زبان کے فرائض میں سے شکر بھی ہے۔ناشکری کا مرض مسلمانوں میں بہت بڑھ گیا ہے۔کسی کو نعمت دیتا ہے تو وہ حقارت کرتا ہے۔اس سے نعمت بڑھتی نہیں۔اگر انسان شکر کرے تو نعمت بڑھتی ہے۔مال کی حرص بھی بہت بڑھ گئی ہے۔جس کی پانچ تنخواہ ہے وہ چاہتا ہے دس ہو جائے اور جس کی سو ہے وہ دو سو کے لئے تڑپ رہا ہے۔طالب علموں میں بھی یہ مرض ہے۔اگر کوئی ان میں سے پاس ہو گیا تو پوچھنے پر شکر نہیں کرے گا بلکہ یہی کہے گا کہ خاک پاس ہوئے ہیں۔ہم چاہتے تھے کہ فسٹ ڈویژن میں نکلتے وظیفہ لیتے۔کسل و کاہلی بھی ایک گندی صفت ہے جو مسلمانوں میں بڑھ رہی ہے۔آنحضرت امام نے ایک دعا فرمائی ہے، جس کو تشہد میں بعض ائمہ نے فرض لکھا ہے۔اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُبِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَ الكسل (بخاری کتاب الدعوات) اسباب کو مہیا نہ کرنا اور کسل اسباب مہیا شدہ سے کام نہ لینا۔رسول اللہ کی جماعت تھی کہ ان میں سے کئی لکڑیاں جنگل سے لا کر بیچتے اور اس میں سے چندے دے دیتے اور رات کو قرآن شریف یاد کرتے۔معاملہ کی صفائی بھی بہت کم رہ گئی ہے۔روپیہ کسی کے قبضے میں آجاوے تو اس کا دل نہیں چاہتا کہ واپس دوں۔تم میں یہ بری باتیں نہ رہیں۔اللہ تعالیٰ تمہیں نیکیوں کی توفیق دے۔آمین۔(بدر جلد نمبر ۱۰۔۔۔۔۳۰ دسمبر ۱۹۰۹ء صفحہ ۴۴۳) ⭑-⭑-⭑-⭑