خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 439 of 703

خطبات نور — Page 439

439 ہوں جو تم سب اپنے اپنے اعضاء پر حکمران ہو۔ان سب میں سے بڑی چیز دل ہے جس کے کچھ فرائض ہیں کچھ محرمات کچھ مکروہات کچھ مباحات۔دل کے فرائض بتاتا ہوں۔(11) اس کا عظیم الشان فرض ہے کہ لَا إِلَهَ إِلَّا الله محمد رسول الله پر ایمان لائے۔جب تک دل اس فرض کو ادا کرنے والا نہ ہو ہلاکت میں ہے۔يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُوْنَ أَبْنَاءَهُمْ (البقرة:۳۷) اور جَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنْفُسُهُم (النمل:۱۵) سے پتہ لگتا ہے کہ دل یقین کر چکے ہیں۔پس اس یقین کے ساتھ عملی رنگ بھی ضروری ہے۔(۲) اس کے بعد فرض ہے حضرت محمد رسول اللہ علی کو اللہ کا رسول یقین کرنا۔جب اللہ معبود ہوا اور محمد رسول اللہ یا رسول تو اللہ کے بالمقابل اب اور کسی کا حکم نہیں اور رسول کی اطاعت کے بالمقابل کوئی اطاعت نہیں۔یہ واجبات سے ہے۔دل کے محرمات میں سے ہے۔(1) اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانا (۲) کبر و نخوت (۳) بغض و حسد (۴) ریاء و سمعة (۵) نفاق کرنا۔شرک کی نسبت تو اللہ فرماتا ہے کہ معاف کروں گا۔اور کبر وہ فعل ہے جس کا نتیجہ شیطان اب تک لعنت اٹھا رہا ہے۔اور ریا کہتے ہیں اس عمل کو جو دکھاوے کے لئے کیا جاوے۔اور نفاق یہ ہے کہ دل سے نہ مانے اور اوپر سے اقرار کرے۔اس کے کچھ اور شعبے بھی ہیں۔(1) جب بات کرے جھوٹ بولے۔(۲) امانت میں خیانت کرے۔(۳) معاہدہ میں غداری کرے۔(۴) سخت فحش گالیاں دے۔دل کے فرائض سے نیچے یہ بات ہے کہ دل کو اللہ کی یاد سے طمانیت بخشے۔آدمی پر مصائب کا پہاڑ گر پڑتا ہے۔کسی کی صحبت خطرے میں ہے، کسی کی عزت کسی کی مالی حالت۔کسی کو بیوی کے تعلقات میں مشکلات ہیں، کسی کو اولاد کی تعلیم میں۔ان تمام مشکلات کے وقت خدا کی فرمانبرداری کو نہ بھولے۔ایک شخص دہلی میں ہیں جو ہمارے خیالات کے سخت مخالف ہیں۔انہوں نے ایک کتاب الحقوق والفرائض " لکھی ہے۔میں نے اسے بہت پسند کیا ہے۔حق بات کسی کے منہ سے نکلے ، مجھے بہت پیاری لگتی ہے۔دوسرے کے منہ سے نکلے تو پھر اور کیا چاہئے۔حقوق و فرائض کا ہر وقت نگاہ میں رکھنا مومن کے لئے مستحب کام ہے۔مصائب میں اللہ پر ایسا بھروسہ ہو کہ ان مصائب کی کچھ حقیقت نہ سمجھے۔اس کی تہ کے اندر جو حکمتیں، رحمتیں، فضل ہیں ان تک اِنَّا لِلہ کے ذریعے پہنچے۔ایک دفعہ میں جوانی میں الحمد پڑھنے لگا۔ان دنوں مجھ پر سخت ابتلاء تھا اس لئے مجھے جہراً پڑھنے میں تامل ہوا کیونکہ جب دل پورے طور پر اس کلمہ کے زبان سے نکالنے پر راضی نہیں تھا تو یہ ایک قسم کا