خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 426 of 703

خطبات نور — Page 426

۱۲/ نومبر ۱۹۰۹ء 426 خطبہ جمعہ حضرت امیرالمومنین نے آیت قرآنی بايُّهَا الذين امنوا لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ وَلَا نِسَاءُ مِنْ نِّسَاء (الحجرات:٢) کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔جب بعض آدمیوں کو آرام ملتا ہے ، فکر معاش سے گونہ بے فکری حاصل ہوتی ہے تو وہ لکھتے بیٹھنے لگتے ہیں۔اب اور کوئی مشغلہ ہے نہیں۔تمسخر کی خو ڈال لیتے ہیں۔یہ تمسخر کبھی زبان سے ہوتا ہے، کبھی اعضاء سے کبھی تعریف ہے۔اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اس تمسخر کا نتیجہ بہت برا ہے۔وحدت باطل ہو جاتی ہے۔پھر وحدت جس قوم میں نہ ہو وہ بجائے ترقی کے ہلاک ہو جاتی ہے۔حدیث میں آیا ہے کہ ایک عورت کو مار رہے تھے یہاں تک کہ اسے کہا جاتا کہ زَنَيْتِ سَرَقْتِ (بخاری کتاب الانبیاء۔مسلم کتاب الحدود) تو نے زنا کیا تو نے چوری کی۔ایک سننے والی پر اس کا اثر ہوا اور اس نے دعا کی کہ الہی! میری اولاد ہی نہ ہو۔گود میں لڑکا بول اٹھا کہ الہی! مجھے ایسا ہی بنائیو کیونکہ اس عورت پر بدظنی کی جارہی ہے۔یہ واقعہ میں بہت اچھی ہے۔اسی طرح ایک اور کا ذکر ہے کہ ماں نے دعا