خطبات نور — Page 427
427 کی الی! میرا بچہ ایسا ہی ہو۔مگر بچہ نے کہا۔الہی! میں ایسا نہ بنوں۔غرض کسی کو کسی کے حالات کی کیا خبر ہو سکتی ہے۔ہر ایک معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔ممکن ہے کہ ایک شخص ایسا نہ ہو جیسا اسے سمجھا جاتا ہے۔لوگوں کی نگاہ میں حقیر ہو مگر خدا کے نزدیک مقرب ہو۔مگر الْأَعْمَالُ بِالْحَوَاتِيمِ (بخاری کتاب القدر) کے مطابق ممکن ہے جس سے تمسخر کیا جاتا ہے اس کا انجام اچھا ہو۔وَلَا نِسَاءُ مِنْ نِسَاءٍ آیت میں آیا ہے۔یہاں عورتیں بیٹھی ہوئی نہیں مگر آدمی کا نفس بھی مونث ہے۔ہر ایک اس کو مراد رکھ سکتا ہے۔دوم، اپنے اپنے گھروں میں جا کر یہ بات پہنچا دو کہ کوئی عورت کسی دوسری عورت کی تحقیر نہ کرے اور اس سے ٹھٹھا نہ کرے۔تم ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ اور نام نہ رکھو۔تم کسی کا برا نام رکھو گے تو تمہارا نام اس سے پہلے فاسق ہو چکا۔مومن ہونے کے بعد فاسق نام رکھانا بہت ہی بری بات ہے۔یہ تمسخر کہاں سے پیدا ہوتا ہے؟ بدظنی ہے۔اس لئے فرماتا ہے اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِ (الحجرات:۱۳) بدگمانیوں سے بچو۔حدیث میں بھی آیا ہے۔اِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَ الْحَدِيثِ (بخاری کتاب الوصايا)۔اس بد ظنی سے بڑا بڑا نقصان پہنچتا ہے۔میں نے ایک کتاب منگوائی۔وہ بہت بے نظیر تھی۔میں نے مجلس میں اس کی اکثر تعریف کی۔کچھ دنوں بعد وہ کتاب کم ہو گئی۔مجھے کسی خاص پر تو خیال نہ آیا مگر یہ خیال ضرور آیا کہ کسی نے اٹھالی ہے۔پھر جب کچھ عرصہ نہ ملی تو یقین ہو گیا کہ کسی نے چرالی۔ایک دن جب میں نے اپنے مکان سے الماریاں اٹھوائیں تو کیا دیکھتا ہوں الماری کے پیچھے بیچوں بیچ کتاب بڑی ہے۔جس سے معلوم ہوا کہ کتاب میں نے رکھی ہے اور وہ پیچھے جاپڑی۔اس وقت مجھے پر دو معرفت کے نکتے کھلے۔ایک تو مجھے علامت ہوئی کہ میں نے دوسرے پر بد گمانی کیوں کی؟ دوم، میں نے صدمہ کیوں اٹھایا؟ خدا کی کتاب اس سے بھی زیادہ عزیز اور عمدہ میرے پاس موجود تھی۔اسی طرح میرا ایک بستر تھا جس کی کوئی آٹھ نہیں ہوں گی۔ایک نہایت عمدہ ٹوپی مجھے کسی نے بھیجی جس پر طلائی کام ہوا تھا۔ایک عورت اجنبی ہمارے گھر میں تھی۔اسے اس کام کا بہت شوق تھا۔اس نے اس کے دیکھنے میں بہت دلچسپی لی۔تھوڑی دیر بعد وہ ٹوپی گم ہو گئی۔مجھے اس کے گم ہونے کا کوئی صدمہ تو نہ ہوا کیونکہ نہ میرے سر پر پوری آتی تھی نہ میرے بچوں کے سر پر۔مگر میرے نفس نے اس طرف توجہ کی کہ اس عورت کو پسند آگئی ہوگی۔مدت گزر گئی۔اس عورت کے چلے جانے کے بعد جب بستر کو