خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 392 of 703

خطبات نور — Page 392

392 ابراہیم کی راہ یہ ہے کہ افراط تفریط سے بچے رہنا۔کسی کی طرف بالکل ہی نہ جھکنا بلکہ دین و دنیا دونوں کو اپنے اپنے درجے کے مطابق رکھنا۔چنانچہ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَ قِنَا عَذَابَ النَّار (البقرۃ:۲۰۲) ایک ہی دعا ہے۔رابعہ بصری ایک عورت گذری ہے۔ایک دن کسی شخص نے ان کے سامنے دنیا کی بہت ہی مذمت کی۔آپ نے توجہ نہ فرمائی لیکن جب دوسرے دن پھر تیسرے دن بھی یونہی کہا تو آپ نے فرمایا۔اس کو ہماری مجلس سے نکال دو کیونکہ یہ مجھے کوئی بڑا دنیا پرست معلوم ہوتا ہے جبھی تو اس کا بار بار ذکر کرتا ہے۔پس ایک وسطی راہ اختیار کرنا جس میں افراط و تفریط نہ ہو ابراہیمی ملت ہے۔مومن کو یہی راہ اختیار کرنی چاہئے اور میں خدا کی قسم کھا کر شہادت دیتا ہوں کہ ابراہیم کی چال اختیار کرنے سے نہ تو غریب الوطنی ستاتی ہے، نہ کوئی اور حاجت۔نہ انسان دنیا میں ذلیل ہوتا ہے، نہ آخرت میں۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَقَدِ اصْطَفَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا وَ إِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ (البقرة :١٣٤) وه دنيا میں بھی برگریدہ لوگوں سے تھا اور آخرت میں بھی۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ دنیا میں خواہ کیسی ذلت ہو ، آخرت میں عزت ہو۔اور بعض آخرت میں کسی عزت کے طالب نہیں یا تھوڑی چیز پر اپنا خوش ہو جانا بیان کرتے ہیں۔چنانچہ ایک دفعہ میں نے ایک کتاب میں پڑھا کہ کوئی بزرگ لکھتے ہیں کہ ہمیں تو بہشت میں پھونس کا مکان کافی ہے اور دنیا کے متعلق لکھا ہے کہ یہاں کفار کو ٹھیوں میں رہتے ہیں۔مسلمانوں کے لئے کچے مکانوں میں رہنا اسلامیوں کی ہتک ہے۔اب میں پوچھتا ہوں کہ جب اس دنیا میں وہ اپنی ہتک پسند نہیں کرتا تو اس عالم میں اپنا ذلیل حالت میں رہنا اسے کس طرح پسند ہے؟ یہ خیال ابراہیمی چال کے خلاف ہے۔ابراہیم نے جن باتوں سے یہ انعام پایا کہ دنیا و آخرت میں برگزیدہ اور اعلیٰ درجہ کا معزز انسان ہوا وہ بہت لمبی ہیں۔مگر اللہ تعالیٰ نے ایک ہی لفظ میں سب کو بیان فرما دیا کہ إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمُ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ (البقرۃ:۱۳۲)۔پھر انسان کو اپنی بہتری کے ساتھ اپنی اولاد کا بھی فکر ہوتا ہے۔مسلمانوں میں کئی قسم کے لوگ گزرے ہیں۔بعض کو اپنی اولاد کا اتنا فکر ہوتا ہے کہ دن رات ان کے فکر میں مرتے ہیں اور بعض ایسے کہ اولاد کے متعلق اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھتے ہیں۔قاری کے متعلق یہ قصہ مشہور ہے کہ آپ پڑھا رہے تھے۔گھر سے غلام نے آکر کہا کہ آپ کا بیٹا مر گیا۔آپ نے فرمایا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (البقرة: ۱۵۷)۔اچھا فلاں کو کہہ دو کہ قبر نکلوا کر اسے دفن