خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 393 of 703

خطبات نور — Page 393

393 کرا دے۔اس کے بعد آپ پڑھانے میں مشغول ہو گئے۔خیر ابراہیم نے اپنی اولاد کی بہتری چاہی تو اس کے لئے ایک وصیت کی بنی ان الله اصطفى لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ (البقرة:۳۳) اے میرے بچو! اللہ نے تمہارے لئے ایک دین پسند فرمایا۔پس تم فرمانبرداری کی حالت میں مرو۔کئی لوگ ایسے ہیں جو گناہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پھر توبہ کر لیں گے۔مگر یہ غلطی ہے کیونکہ عمر کا کچھ بھروسہ نہیں۔خطبہ ثانیہ وَنَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا۔میں تمہیں ایک عام شر کی طرف توجہ دلاتا ہوں، وہ بد ظنی ہے۔جن لوگوں نے اس مرض کے علاج بتائے ہیں ان میں ایک امام حسن بصری بھی ہیں۔آپ حضرت عمر کی خلافت میں پیدا ہوئے تھے۔آپ کے اجداد عیسائی تھے۔یہ لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ میں دجلہ کے کنارے پر گیا۔کیا دیکھتا ہوں کہ ایک نوجوان بیٹھا ہے اور اس کے ساتھ ایک عورت ہے بڑی حسین۔ان کے درمیان شراب کا مشکیزہ پڑا ہے۔وہ اسے پی رہے ہیں اور بعض وقت عورت اس نوجوان کو چوم بھی لیتی ہے۔میں نے اس وقت کہا کہ یہ لوگ کیسے بدکار ہیں۔باہر سرمیدان بد ذاتی کر رہے ہیں۔اتنے میں ایک حادثہ ہو گیا۔ایک کشتی آرہی تھی وہ ڈوب گئی۔عورت نے اشارہ کیا تو وہ نوجوان کودا اور چھ آدمیوں کو باہر نکال لایا۔پھر آواز دی کہ او حسن! ادھر آ۔تو بھی ایک کو تو نکال۔نادان! یہ تو میری ماں ہے اور مشکیزہ میں دریا کا مصفی پانی ہے۔ہم بھی تیری آزمائش کو یہاں بیٹھے تھے کہ دیکھیں تم میں سوء ظنی کا مرض گیا ہے یا نہیں ؟ امام حسن بصری فرماتے ہیں اس دن سے میں ایسا شرمندہ ہوا کہ کبھی سوء ظن نہیں کیا۔سو تم بھی اس سے بچو۔( بدر جلد ۸ نمبر ۲۴ - ۲۵ ---۸ - ۵ار اپریل ۱۹۰۹ء صفحه ۲) ⭑-⭑-⭑-⭑