خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 391 of 703

خطبات نور — Page 391

۵ مارچ ۱۹۰۹ء 391 خطبہ جمعہ حضرت امیر المومنین نے وَمَنْ يَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهُ (البقرة)۳) کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔رشک ( غبطه ) تمام انسانی ترقیات کی جڑ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر رشک کرتا ہے تو ابراہیم سے کرو۔دیکھو! اس نے اپنے اخلاص و وفا کے ذریعے کیسے کیسے اعلیٰ مدارج پائے۔ابراہیم کی ملت سے کون بے رغبت ہو سکتا ہے مگر وہی جس کی دینی دنیوی عقل کم ہو۔اس کی ملت کیا تھی؟ بس حنیف ہونا۔حنیف کہتے ہیں ہر امر میں وسطی راہ اختیار کرنے والے کو۔عربی زبان میں جس کی ٹانگیں ٹیڑھی ہوں اسے احنف کہتے ہیں۔اس واسطے حنیف کے معنے میں بعض لوگوں کو دھوکہ ہوا ہے۔حالانکہ ایسے شخص کو احنف بطور دعا و فال نیک کہتے ہیں۔ہمارے ملک میں هرچه گیرد علتی شود" کے مریض سیدھے کے معنے بھی الٹے ہی لیتے ہیں۔جس آدمی کو سیدھا کیا جاوے گویا اس کے یہ معنے ہیں کہ تم بڑے بیوقوف ہو۔