خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 372 of 703

خطبات نور — Page 372

372 بھی چاہئے۔ہمیشہ کسی دوسرے کی عیب چینی سے پہلے اپنی گذشتہ عمر پر نگاہ ڈالو کہ ہم نے اتباع رسول پر کہاں تک قدم مارا اور اپنی زندگی میں کتنی تبدیلی کی ہے۔ایک عیب کی وجہ سے ہم کسی شخص کو برا کہہ رہے ہیں۔کیا ہم میں بھی کوئی عیب ہے یا نہیں؟ اور اگر اس کی بجائے ہم میں یہ عیب ہو تا اور ہماری کوئی اس طرح پر غیبت کرتا تو ہمیں برا معلوم ہو تا یا نہیں؟ حضرت صاحب کے زمانہ میں کسی نے ایک شخص کو جھوٹا کہہ دیا۔اس پر وہ بہت جھنجھلایا کہ اوہ! ہم جھوٹے ہیں؟ فرمایا کیا اس شخص نے کبھی جھوٹ نہیں بولا جو اتنا ناراض ہو رہا ہے۔اسے چاہئے تھا کہ اپنی پچھلی عمر کا مطالعہ کرتا اور دیکھتا کہ آخر کبھی تو میں نے جھوٹ بولا اور خدا نے ہمیشہ ستاری کی ہے۔پس اب کسی کے کہنے پر میں کیوں اتنا ناراض ہو رہا ہوں۔لوگ من گھڑت اصول بنا لیتے ہیں اور پھر ان پر کسی کی صداقت کو پرکھتے ہیں۔مثلا یہ کہ ہم فلاں شخص کی پیٹھ کے پیچھے ہو کر درود پڑھیں گے۔اگر وہی ہوا تو ضرور اپنی پیٹھ پھیر بیٹھے گل۔حالانکہ یہ ان کی صریح غلطی ہے۔اس طرح تو کوئی ولی امام صلوٰۃ نہیں بن سکتا بلکہ صف اول میں کھڑا نہیں ہو سکتا کیونکہ لوگ اس کی پیٹھ کے پیچھے درود پڑھیں گے۔میں نے ریل میں کسی کو نکتہ معرفت سنایا مگر اس نے توجہ نہ کی بلکہ کہا کہ آپ کو قرآن شریف نہیں آتا۔مطلب یہ تھا کہ علم تجوید و قرات کے مطابق آیت کو نہیں پڑھا۔پس میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ معائب کی طرف خیال نہ کرو بلکہ خوبیوں کو دیکھو۔ہمارے بیانوں کا قرآن مہیمن ہے۔اس کے اخیر میں قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ (الفلق :)) ہے کہ ایسا نہ ہو کسی طرح ابتلاء آجائے اور کوئی بات ہمیں بے ایمان کر دے۔فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ (النحل) سے بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن مجید کے ختم کے بعد معوذتین پڑھ لینی چاہئے اور بعض کہتے ہیں ابتداء میں پڑھنی چاہئے۔بہر حال مقصد حاصل ہے جو یہ ہے کہ قرآن کے پڑھتے وقت اگر ہم نے کوئی غلطی کی یا بے سمجھی، تو اس سے یا ایسی لغزش کے آئندہ واقع ہونے سے ہمیں بچالے اور کلمۃ الحکمت سے مستفید کر۔(۲) اللہ کو بہت یاد کرو۔ہر وقت دعا میں لگے رہو اور اپنی حالت میں تبدیلی کرنے کی کوشش کرو۔تم اس وقت دوسری قوموں کے لئے نمونہ ہو۔پس اپنے تئیں نیک نمونہ بناؤ۔امام ابو حنیفہ ایک دفعہ کہیں جا رہے تھے۔ایک لڑکے کو دیکھا جو کیچڑ میں دوڑا جا رہا ہے۔آپ نے اسے فرمایا کہ دیکھو میاں لڑکے کہیں پھسلتے ہو۔لڑکے نے کہا آپ اپنا خیال رکھیے۔کیونکہ میں پھسل گیا تو خیر صرف مجھے تکلیف پہنچے