خطبات نور — Page 371
371 نبی کریم کے وقت میں ہر گز نہ تھی کیونکہ یہود دیکھ سکتے ہیں کہ ہمارے انبیاء جو لائے ہیں، نبی کریم ان کے خلاف کچھ نہیں فرماتے۔تعظیم لامر اللہ۔شفقت علی خلق اللہ۔یہی تمام انبیاء کے دین کا خلاصہ ہے۔پھر ہمارے لئے مسیح موعود علیہ السلام کے ماننے میں تو بہت ہی آسانیاں ہیں۔اولیاء میں جو کچھ بطور امر مشترک موجود تھاوہ ہمارے امام میں بھی تھا۔آپ جو تعلیم لائے اس میں بھی کوئی نئی بات نہیں۔کلمہ شہادت ہے۔اب اس کے ماننے میں کسے عذر ہو سکتا ہے؟ پھر یہ اقرار کس شرع اسلام کے خلاف ہے کہ میں تمام گناہوں سے توبہ کرتا ہوں اور دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا اور امر معروف میں بقدر امکان کوشش کروں گا؟ آپ کے کل وظیفے کسی کو معلوم نہیں مگر سبحان اللہ سبحان اللہ تو ان کی زبان سے سننے والے ہم میں بھی موجود ہیں۔پھر مسیح کی وفات ہے، یہ بھی کوئی نیا مسئلہ نہیں۔جتنے رسول آئے سب ہی فوت ہوئے۔کسی نے اپنے سے پہلے نبی کی حیات کا دعوئی نہیں کیا۔نبی کریم کی وفات پر یہ مسئلہ پیش آیا تو وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ (ال عمران:۱۳۵) سے ابو بکر کی مشکل آسان ہو گئی۔باوجود اس صاف اور سیدھی تعلیم کے پھر بھی کوئی نہ مانے اور کہے کہ ہم نے جو کچھ سمجھنا تھا سمجھ لیا تو یہ لعنت کا نشان ہے۔سب سے پہلے آدم کے زمانہ میں مسئلہ خلافت پر بحث ہوئی۔پھر داؤد کو خلیفہ بنایا گیا۔پھر نبی کریم کے زمانہ میں یہی مسئلہ پیش آیا۔مگر ہمیشہ خدا کا انتخاب غالب رہتا ہے۔یہ عیب چینی کی راہ بہت ہی خطرناک راہ ہے۔عیسائیوں نے اس راہ پر قدم مارا نقصان اٹھایا۔ایک نبی کی معصومیت کے ثبوت کے لئے سب کو گنہگار قرار دیا۔پھر آریہ نے یہی طریق اختیار کیا۔وہ بھی دوسرے مذاہب کو گالیاں دینا جانتے ہیں۔پھر شیعہ ہیں وہ بھی خلفائے راشدین پر تبرا بھیجنے کے گناہ میں پڑ گئے۔ایک دفعہ امرتسر میں میں نے ایک شخص کو قرآن کی بہت ہی باتیں سنائیں۔میرا ازار بند اتفاق سے ڈھیلا ہو گیا۔آخر اس نے مجھ پر یہ اعتراض کیا کہ تمہارا پا جلسہ مخنوں سے کیوں نیچا ہے ؟ میں نے کہا۔اتنے عرصہ سے جو تم میرے ساتھ ہو تمہیں کوئی بھلائی مجھ میں نظر نہیں آئی سوائے اس عیب کے اور یہ عیب جو تم نے نکالا یہ بھی ٹھیک نہیں کیونکہ حدیث میں جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ (بخاری کتاب فضائل الصحابه) آیا ہے اور یہاں اس بات کا وہم تک نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قَالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصَارَى عَلَى شَئ وَقَالَتِ النَّصَارَى لَيْسَتِ الْيَهُودُ عَلَى شَئ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ كَذلِكَ قَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ (البقرة: ۱۳) گویا اس طرح کہنا لا یعلم" لوگوں کا دستور ہے۔عیب شماری کی طرف ہر وقت متوجہ رہنا ٹھیک نہیں۔کچھ اپنی اصلاح