خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 373 of 703

خطبات نور — Page 373

373 گی مگر آپ کے پھسلنے سے ایک جہان پھیلے گا۔امام ابو حنیفہ کہتے ہیں اس سے بہتر کسی کی نصیحت نے مجھ پر اثر نہیں کیا۔اور یہ ہے بھی سچ إِذَا فَسَدَ الْعَالِمُ فَسَدَ العَالَمُ۔اسی طرح تمہاری لغزش کا اثر صرف تمہیں تک محدود نہیں بلکہ دور تک جاتا ہے۔پس سوچ سوچ کر قدم اٹھاؤ۔حضرت صاحب کے زمانہ میں آپ کے سامنے کسی نے کہا کہ فلاں آدمی میں یہ یہ عیب ہے۔فرمایا کیا تو نے اس کے لئے چالیس روز رو رو کر دعا کر لی ہے جو مجھ سے شکائت کرتا ہے۔میرا دوست اگر ملے اور اس نے شراب بھی پی ہو تو میں اسے خود اٹھا کر کسی محفوظ مکان میں لے جاؤں پھر آہستہ آہستہ اس کی اصلاح کروں۔عیب شماری سے کوئی نیک نتیجہ نہیں نکل سکتا۔کسی کا عیب بیان کیا اور اس نے سن لیا، وہ بغض و کینہ میں اور بھی بڑھ گیا۔پس کیا فائدہ ہوا ؟ بعض لوگ بہت نیک ہوتے ہیں اور نیکی کے جوش میں سخت گیر ہو جاتے ہیں اور امر بالمعروف ایسی طرز میں کرتے ہیں کہ گناہ کرنے والا پہلے تو گناہ کو گناہ سمجھ کر کرتا تھا پھر جھنجھلا کر کہہ دیتا ہے کہ جاؤ ہم یونہی کریں گے۔امر بالمعروف کرتے ہوئے کسی نے ایک بادشاہ کا مقابلہ کیا۔بادشاہ نے اس کے قتل کا حکم دیا۔اس پر ایک بزرگ نے کہا کہ امر بالمعروف کا مقابلہ گناہ تھا مگر ایک مومن کا قتل اس سے بھی بڑھ کر سخت گناہ ہے۔واعظ کو چاہئے کہ اُدْعُ إِلَى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ (النحل (۳) پر عمل کرے اور ایسی طرز میں کلمہ حکمت گوش گذار کرے کہ کسی کو برا معلوم نہ ہو۔تم لوگ جو یہاں باہر سے آئے ہو اگر کوئی نیک بات یہاں والوں میں دیکھتے ہو یا یہاں سے سنتے ہو تو اس کی باہر اشاعت کرو اور اگر کوئی بری بات دیکھی ہے تو اس کے لئے درد دل سے دعائیں کرو کہ الہی! اب لکھوکھا روپے خرچ ہو کر یہ ایک قوم بن چکی ہے اور یہ قوم کے امام بھی بن گئے ہیں، پس تو ان میں اصلاح پیدا کر دے۔بدر جلد ۸ نمبر ۱۴---۲۸ / جنوری ۱۹۰۹ء صفحہ۹-۱۰) ⭑-⭑-⭑-⭑