خطبات نور — Page 370
یکم جنوری ۱۹۰۹ء 370 خطبہ جمعہ وَ قَالُوا قُلُوبُنَا غُلْفٌ بَلْ لَّعَنَهُمُ اللهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِيْلًا مَّا يُؤْمِنُونَ - وَ لَمَّا جَاءَهُمْ كِتَابٌ مِّنْ عِنْدِ اللهِ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَهُمْ وَكَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا فَلَمَّا جَاءَ هُمْ مَّا عَرَفُوا كَفَرُوا بِهِ فَلَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَافِرِينَ (البقرة:٨٩ - ٩٠) - فرمایا:۔بہت سے لوگ فَرِحُوا بِمَا عِنْدَهُمْ مِنَ الْعِلْمِ (المومن: (۸۴) پر نازاں ہوتے ہیں اور نئی ہدایت کے ماننے سے پس و پیش کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں قُلُوبُنَا غُلف یعنی ہمارے دل نا مختون ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے یہ بات نہیں بلکہ کفر کے سبب ان پر لعنت پڑ گئی ہے۔انبیاء کے ماننے میں پچھلوں کے لئے تو بہت آسانی ہے کیونکہ ان کے پاس نمونہ موجود ہے مگر پہلوں کے لئے بہت مشکل تھی۔دیکھو! جس قدر مشکل حضرت آدم و نوح علیہما السلام کے وقت میں تھی وہ