خطبات نور — Page 276
276 دین کا نتیجہ بھی دار السلام۔پس اسلام ہر طرح سلامت رہے گا۔فکر ہے تو یہ کہ ہم لوگوں میں سے نکل کر اوروں میں نہ چلا جائے۔اس کا طریق كُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ (التوبه :) ہے یعنی راستبازوں کے حضور میں رہنا، متقیوں کی جماعت میں شامل ہونا۔پھر ہر سال میں دیکھنا کہ جیسے ہم ایک جانور پر جو ہماری ملک اور قبضہ میں ہے جزوی مالکیت کے دعوے سے چھری چلاتے ہیں اسی طرح ہمیں بھی اپنے مولیٰ کے حضور جو ہمارا سچا خالق ہے اور ہم پر پوری اور حقیقی ملکیت رکھتا ہے اپنی تمام نفسانی خواہشبوں کو اس کے فرمانوں کے نیچے ذبح کر دینا چاہئے۔قربانی کرنے سے یہ مراد نہیں کہ اس کا گوشت اللہ تعالیٰ کو پہنچتا ہے بلکہ اس سے ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کی فرمانبرداری کا نظارہ مقصود ہے تا تم بھی قربانی کے وقت اس بات کو نظر رکھو کہ تمہیں بھی اپنی تمام ضرورتوں اعزازوں، ناموریوں اور خواہشوں کو خدا کی فرمانبرداری کے نیچے قربان کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔جس طرح ان جانوروں کا خون کراتے ہو ایسا ہی تم بھی خدا کی فرمانبرداری میں اپنے خون تک سے دریغ نہ کرو۔انسان جب ایسا کرے تو وہ کوئی نقصان نہیں اٹھاتا۔دیکھو! ابراہیم و اسماعیل کا نام دنیا سے نہیں اٹھا۔ان کی عزت و اکرام میں فرق نہیں آیا۔پس تمہاری کچی قربانی کا نتیجہ بھی بد نہیں نکلے گا۔وَلكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى (الحج:۳۸) تقومی خدا کو لے لیتا ہے۔جب خدا مل گیا تو پھر سب کچھ اسی کا ہو گیا۔معجزوں کی حقیقت بھی یہی ہے۔جب انسان خدا کا ہو جاتا ہے تو اس کو تمام ذرات عالم پر ایک تصرف ملتا ہے۔اس کی صحبت میں ایک برکت رکھی جاتی ہے۔اور یہ ایک فطرتی بات ہے کہ ایک انسان کے اخلاق کا اثر دوسرے کے اخلاق پر پڑتا ہے۔بعض طبائع ایسی بھی ہیں جو نیکوں کی صحبت میں نیک اور بدوں کی صحبت میں بد ہو جاتی ہیں۔قرآن کریم میں ایسی فطرتوں کا ذکر آیا ہے سَمْعُونَ لِلْكَذِبِ سَمْعُونَ لِقَوْمٍ اَخَرِينَ (المائدہ: ۴۲)۔بعض لوگ ایسے ہیں کہ ہمارے پاس بیٹھ کر ہماری باتوں کو پسند کرتے ہیں۔جب دوسروں کے پاس جا بیٹھتے ہیں تو پھر ان کی باتیں قبول کر لیتے ہیں۔ایسے لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ متقیوں کی صحبت میں رہیں اور وقت نہ ملے تو استغفار‘ لاحول اور دعا کریں۔دعا کی حقیقت سے لوگ کیسے بے خبر ہیں۔افسوس ہے میں تمہیں کیا سناؤں۔سچ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ایمان ثریا پر چلا جائے گا۔دو مولویوں کا ذکر سناتا ہوں۔ایک مولوی میرے پاس بڑے اخلاص و محبت سے بہت دن رہا۔آخر ایک دن مجھے کہا۔معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے پاس کوئی تسخیر کا عمل ہے جو آسائش کی تمام راہیں