خطبات نور — Page 275
275 اسے جو کچھ ملا ان قربانیوں کا نتیجہ ہے جو اس نے خداوند کے حضور گزاریں۔جو شخص قربانی نہیں کرتا جیسی کہ ابراہیم نے کی اور جو شخص اپنی خواہشوں کو خدا کی رضا کے لئے نہیں چھوڑتا تو خدا بھی اس کے لئے پسند نہیں کرتا جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں کیسے دشمن موجود تھے مگر وہ خدا جس نے انا لَتَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيا (المومن (٥٢) فرمایا اس نے سب پر فتح دی۔صلح حدیبیہ میں ایک شخص نے آکر کہا تم اپنے بھائیوں کا جتھانہ چھوڑو۔ایک ہی حملہ میں یہ سب تمہارے پاس بیٹھنے والے بھاگ جائیں گے۔اس پر صحابہ سے ایک خطرناک آواز سنی اور وہ ہکا بکا رہ گیا۔یہ حضرت نبی کریم کے اللہ کے حضور بار بار جان قربان کرنے کا نتیجہ تھا کہ ایسے جاں نثار مرید ملے۔اور وہ جو باپ بنتے تھے جو تجربہ کار تھے ، ہر طرح کی تدبیریں جانتے تھے ، ان سب کے منصوبے غلط ہو گئے۔اور وہ خدا کے حضور قربانی کرنے والا متقی نہ صرف خود کامیاب ہوا بلکہ خلفاء راشدین کے لئے بھی وعدہ لے لیا۔چنانچہ فرمایا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا (النور:۵۶)۔دنیا میں کئی نبی جن میں بعض کا ذکر قرآن مجید میں ہے اور بعض کا نہیں، اپنے ساتھ خارق عادت نشان لے کے دنیا میں آئے مگر ان محسنوں ان ہادیوں کے لئے کوئی دعا نہیں کرتا بلکہ انہیں معبود سمجھ کر دعا کا محتاج ہی نہیں سمجھتے۔یہ شرف صرف ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہے کہ رات دن کا کوئی وقت نہیں گزرتا جس میں مومنوں کی ایک جماعت درد دل سے اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ : پڑھ رہی ہو۔زمین گول ہے اس لئے مغرب و عشاء، ظہر و عصر کا وقت یکے بعد دیگرے دن رات کے کسی نہ کسی حصہ میں کسی نہ کسی ملک پر ضرور رہتا ہے اور مسلمان بچے دل سے خاص رحمتوں کا نزول اپنے ہادی برحق کے لئے مانگتے ہیں۔اسی کا نتیجہ ہے کہ اللہ آپ کے مدارج میں ہر آن ترقی دیتا ہے۔آپ کو جو کتاب بخشی وہ کیسی محفوظ۔پھر آپ کا دین کیسا محفوظ ہے کہ ہر صدی کے سر پر (یہ عام سنت جماعت کا مذہب ہے۔بعض کے نزدیک ہر پچاس بلکہ تیس برس کے بعد ) اللہ تعالیٰ امت محمدیہ کو بچے راہوں کی طرف کھینچنے والے بھیجتا رہتا ہے تاکہ تم مخلص متقی بنو۔اسلام دنیا سے اٹھ جائے گا اس بات کا مجھے کبھی خطرہ نہیں ہوا۔کیونکہ اس دین کا بھیجنے والا "سلام" ہے۔پھر مکہ دار السلام۔پھر مدینہ دار السلام فتنہ دجال سے۔نبی کریم کے لئے بھی يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (المائدہ:۲۸) آچکا ہے۔اس