خطبات نور — Page 277
277 آپ کے لئے کھلی ہیں اور اتنی مخلوق خدا آپ کے پاس آتی ہے۔میں نے کہا عمل تسخیر کیا ہوتا ہے؟ خدا نے تو فرما دیا کہ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمَوتِ وَ مَا فِي الْأَرْضِ لقمان (۳) سارا جہاں تمہارے لئے مسخر ہے۔اس سے بڑھ کر اور کیا تسخیر ہو سکتی ہے۔انسان کو چاہئے کہ دعا کرے۔دعا کی عادت ڈالے۔اس سے کامیابیوں کی تمام راہیں کھل جائیں گی۔میری یہ بات سنکر وہ ہنس دیا اور کہا۔یہ تو ہم پہلے ہی سے جانتے ہیں۔کوئی عمل تسخیر بتلاؤ۔ایک اور مولوی تھا۔اس نے مجھ سے مباحثہ چاہا۔میں نے اسے سمجھایا تم لوگوں کی تعلیم ابتدا ہی سے ایسی ہوتی ہے کہ ایک عبارت پڑھی اور پھر اس پر اعتراض۔پھر اس اعتراض پر اعتراض۔اسی طرح ایک لمبا سلسلہ چلا جاتا ہے۔اس سے کچھ اس قسم کی عادت ہو جاتی ہے کہ کسی کے سمجھانے سے کچھ نہیں سمجھتے۔میں تمہیں ایک راہ بتاتا ہوں۔بڑے اضطراب سے خدا تعالیٰ کے حضور دعا کرو۔اس نے بھی یہی کہا کہ یہ تو جانتے ہیں۔غرض دعا سے لوگ غافل ہیں۔حالانکہ دعا ہی تمام کامیابیوں کی جڑ ہے۔دیکھو قرآن شریف کی دعا بھی دعا ہی سے ہوتی ہے۔انسان بہت دعائیں کرنے سے منعم علیہ بن جاتا ہے۔دکھی ہے تو شفا ہو جاتی ہے۔غریب ہے تو دولتمند۔مقدمات میں گرفتار ہے تو فتحیاب۔بے اولاد ہے تو اولاد والا ہو جاتا ہے۔نماز روزہ سے غافل ہو تو اسے ایسا دل دیا جاتا ہے کہ خدا کی محبت میں مستغرق رہے۔اگر کسل ہے تو اسے وہ ہمت دی جاتی ہے جس سے بلند پروازی کر سکے۔کاہلی سستی ہے تو اس سے یہ بھی دور ہو جاتی ہے۔غرض ہر مرض کی دوا ہر مشکل کی مشکل کشا یہی دعا ہے۔اسباب کو مہیا نہ کر سکنا یہ عجز ہے اور مہیا شدہ اسباب سے کام نہ لینا یہ کسل ہے۔اس کے لئے دعا سکھلائی گئی اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِة الكسل (بخاری کتاب الدعوات)۔جب انسان منعم علیہ بن جائے اور اسے آسودگی ملے بلحاظ اپنے مال کے اپنی قوت کے اپنی اولاد کے اپنی عزت و جبروت کے اپنے علم و معرفت کے تو پھر کبھی کبھی اعمال بد کا نتیجہ یہ ہو جاتا ہے کہ غضب آجاتا ہے۔وہ اپنی آسودگی کو اپنی تدابیر کا نتیجہ سمجھ کر انہی تدابیر کو معبود بنالیتا ہے اور برے عملوں میں پڑ جاتا ہے۔اس لئے دعا سکھائی گئی کہ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ (الفاتح) میں منعم علیہ بن کر تیرا مغضوب نہ بنوں۔مغضوب کی دو علامات ہیں۔(۱) علم ہو عمل نہ کرے۔(۲) کسی سے بے جاعداوت رکھے۔ضالین وہ بھولا بھٹکا انسان جو کسی سے بے جا محبت کرے اور کچے علوم سے بے خبر ہو۔پس انسان کو چاہئے کہ یہ دعا کرے کہ (اللہ اسے) اپنا منعم علیہ بنا لے مگر ان انعام کئے گیوں (میں) سے کہ جن پر نہ تیرا غضب کیا گیا ہو، نہ وہ بھولے بھٹکے ہوں۔