خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 17 of 703

خطبات نور — Page 17

17 جاتا ہے ، مگر خدا تعالی کی چٹھی۔اور پھر جس کے لانے والا وہ کامل انسان جو محمد ہے ، صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اتنی پرواہ نہیں کی جاتی۔ستی کی جاتی ہے تو کتاب الہدی کے سمجھنے میں۔بعض اعمال ایسے ہیں کہ ہم نیکی سمجھتے ہیں مگر قانون الہی کا فتویٰ نہیں ہوتا۔جب انسان مرفہ الحال اور اکثر باز ہو جاتا ہے تو وہ دکھوں میں مبتلا ہوتا ہے، اس وقت نجات کی راہ نہیں ملتی۔میں دیکھتا ہوں کہ ایسے انسان ہیں کہ دعوی اسلام کرتے ہیں مگر عمل دیکھو تو بازار میں کفار کے اعمال اور ان کے اعمال برابر ہیں۔نیک نمونہ دکھا کر دوسروں کو قائل کر سکتا ہے۔اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اخلاق کی نسبت فرماتا ہے کہ اگر تو نرم مزاج نہ ہو تا تو یہ لوگ تیرے گرد جمع نہ ہوتے۔صحابہ کرام کی زندگیوں کے حالات پر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام سے کوئی غلطی بھی ہو جاتی تھی اور آپ استغفار بھی فرمایا کرتے تھے۔مگر ذرا ذرا سی بات پر مواخذہ اور تشدد کرتے تو تیرے پاس یہ قوم کس طرح جمع ہوتی۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس نہ مال نہ طمع کی امید تھی۔اگر کوئی چیز گرویدہ کر سکتی تھی تو وہ صرف حق کا نور اور آپ کے برگزیدہ اخلاق تھے۔اپنے اعمال میں یہ امر مد نظر رکھو کہ اخلاص اور صواب ہو۔نہ یہ کہ اپنے اغراض و مقاصد کے لئے کسی آیت یا حدیث کا بہانہ تلاش کرتے پھرو۔اور نیکی کرتے ہوئے یہ نہ سمجھو کہ گویا تمام منازل طے کر لئے۔نہیں! بلکہ بعض امور ضروری ہیں اور بعض اس سے کم۔بعض فرائض ہیں ، بعض سنن ، بعض واجبات ہیں۔ایک سخت بدی ہوتی ہے، ایک اس سے کم اور بعض ایسی کہ ان پر حرام اور مکروہ کا لفظ عائد ہوتا ہے۔خدا تعالی کی باتیں جب سنائی جاویں تو مناسب نہیں کہ انسان سن کر بھی اس راہ کو اختیار نہ کرے جو خدا تعالیٰ کی رضامندی کی راہ ہے۔اور اسے اساطیر الاولین کہنے والوں کی طرح لا پروائی سے چھوڑ دے۔میں ایک ضروری امر آخر میں تمہیں بتلانا چاہتا ہوں کہ جب کوئی ہادی دنیا میں آتا ہے تو اس کی شناخت کے کئی طریق ہوتے ہیں۔اول۔جاہل اور بے علم نہ ہو۔خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والے ہادی کے لئے ضروری ہے کہ وہ نادان اور بے خبر نہ ہو۔اب کتاب اللہ کو پڑھو اور دیکھو کہ جو معارف اور حقائق اس میں بیان کئے گئے ہیں وہ ایسے ہیں کہ کسی جاہل اور نادان کے خیالات کا نتیجہ نہیں ہو سکتے۔سوچو! اور پھر سوچو!! نادان ایسی معرفت اور روح و راستی سے بھری ہوئی باتیں نہیں کر سکتے۔