خطبات نور — Page 16
16 صواب کیا ہے؟ کہ ہر بھلا کام اس طرح پر کیا جاوے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کر کے دکھایا ہے۔اگر نیکی کرے مگر نہ اس طرح جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سکھائی ہے، وہ راہ صواب نہیں۔غرض یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس کام کے کرنے میں اجازت سرکاری ہے یا نہیں۔اور پھر اللہ کی رضا مقصود ہے یا نہیں۔پس کام کرو خشیت الہی سے اور پھر اخلاص و صواب سے۔وَالَّذِينَ هُمْ بِآيَاتِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُونَ اللہ تعالیٰ کے احکام پر ایمان لاتے ہیں۔وَالَّذِيْنَ هُمْ بِرَبِّهِمْ لا يُشْرِكُونَ اور پھر اللہ تعالیٰ کے ساتھ اعمال اور ترک اعمال میں کسی کو شریک نہیں کرتے۔نیکی کو اس لئے کرے کہ خدا تعالیٰ کی رضا کا باعث ہے اور اس کے لئے اس کو کرے۔اور بدی سے اس لئے اجتناب کرے کہ خدا نے ان کو برا فرمایا اور ان سے روکا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اتباع مد نظر رکھ کر نیکی کرے۔نیکی کرتا ہوا بھی خوف الہی کو دل میں جگہ دے کیونکہ وہ نکتہ نواز اور نکتہ گیر ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے جنابہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عرض کرتی ہیں کہ بدیاں کرتے ہوئے خوف کریں؟ فرمایا نہیں! نہیں! نیکیاں کرتے ہوئے خوف کرو۔جو نیکیاں کرنے کی ہیں، کرو اور پھر حضور الٹی میں ڈرتے رہو کہ ایسا نہ ہو کہ عظیم و قدوس خدا کے حضور کے لائق ہیں یا نہیں۔ایسے لوگ ہیں جو يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَهُمْ لَهَا سَابِقُونَ کے مصداق ہوتے ہیں۔یعنی اول اور آخر میں خشیت ہو۔فعل اور ترک فعل اخلاص اور صواب کے طور پر ہوں اور وہ بھلائیوں کے لینے والے اور دوسرے سے بڑھنے والے ہیں۔وسوسہ شیطانی یہ بھی آجاتا ہے کہ یہ راہ کٹھن ہے کیونکر چلیں گے۔خدا تعالیٰ خود ہی اس وسوسہ کا جواب دیتا ہے لا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (المومنون: ٢٣) کہ ہم نے جو اعمال کے کرنے کا حکم دیا ہے اور نواہی سے روکا ہے وہ مشکل نہیں۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ عدم استطاعت پر حج کا حکم ہے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اوامر و نواہی ایسے ہیں کہ عمل کر سکتا ہے اور ان سے باز رہ سکتا ہے۔اور یہ امر بھی بحضور دل یاد رکھو کہ بعض اعمال بھول جاتے ہیں۔جناب الہی کے ہاں بھول نہیں۔بلکہ فرمایا وَلَدَيْنَا كِتَبْ يَنْطِقُ بِالْحَقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ (المومنون:) یاد رکھو! جناب الہی میں اعمال محفوظ رکھے جاتے ہیں۔خدا کے ہاں ظلم نہیں ہوتا۔انسان اگر غور کرے تو دنیا میں بھی ایک جنت اور نار کا نمونہ دیکھ سکتا ہے۔مجھے افسوس آتا ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ دوستوں کی چٹھیوں کے پڑھنے پڑھانے میں کس قدر ہوشیاری اور مستعدی سے کام لیا